Skip to main content

Posts

Showing posts from June, 2020

ہے انقلاب کی نقیب عورت

خان مبشرہ فردوس اورنگ آباد  ایڈیٹر افکار نو   اورنگ آباد مہارشٹر   انقلاب کے معنی ”  تبدیلی ” کے ہیں۔ طرز زندگی ، طرز معاشرت ہو یا روایات شکنی ہو روایت سازی کا باب ہو تبدیلی کامنتظر رہتا ہے ” ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں " تبدیلی کی  پیش خیمہ بننے والی وہ عورتیں جو مکمل تبدیلی کی پیش رفت کرتے ہوئے زمانے کو ایک بڑی تبدیلی سے روشناس کرواتی ہیں ۔تاریخ میں یہ روشن کردار ہمیشہ باقی رہتے ہیں اور صالح انقلاب کو آخرت میں بھی یوم التبلی السرائر ،، کہ اس دن بال بریک راز بھی کھولا جائے گا ۔ تاریخ میں ایک بہت بڑی تبدیلی سے ہر شخص واقف ہے بنی اسرائیل کے مصر میں غربت و افلاس اور فرعون کے ظلم و ستم کو بھی ایک تبدیلی کا انتظار تھا ایک انقلاب کی آمد تھے بنی اسرائیل وہ انقلاب موسی کے وجود سے آتا ہے اور یاد ہے اس انقلاب کی پیش قدمی بھی ایک عورت ہی کے دم سے ہے دریا میں صندوق بہانے سے لیکر اس صندوق کا پیچھا کرنے والی بہن جو اپنے بھائی کو فرعون کے دربار میں پہنچنے کی نگہداشت کرتی ہے اور روتے بچے کو دودھ پلانے کے دوڑتے ہوئے اپنی ماں کو بلا لاتی ہے۔ بنیاد اسانقلاب کی بھی ایک خاتو...

گھروں میں محصور ہونے کے کام

تحریر ۔۔۔خان مبشرہ فردوس  ایڈیٹر افکار نو  اورنگ آباد مہارشٹر  کورونا وائرس کی وجہ سے گھر میں بند رہیں یہ ایک سماجی ذمہ داری ہے اپنا نظام الاوقات تبدیل کرلیں ، نماز فجر جب باجماعت پڑھ چکیں تو فیمیلی درس ہو پہلے عجلت میں ہوتا تھا اب بچوں کو سمجھاتا ہوا ہو ۔ ناشتے کے بعد ان سے اسکول ، دوست اور استاد سےمتعلق رائے لیں ۔ بچوں کو وقت دیں انکی صلاحیتوں کو سمجھنے ان پر اچھے برے کیا اثرات پڑے ہیں انہیں جاننے کا بہترین موقع قدرت نے عطا فرمایا یہ سمجھیے ۔ بچوں کے اور فیمیلی کے ساتھ مل بیٹھیں کتابوں کی فہرست بچوں سے بنوائیں ۔ انہیں اپنی چیزیں ترتیب سے رکھنا سکھائیے کوئی تھیم دیجیے اور ڈرائنگ بنوانے دیجیے جیسے تاریکی میں " توحید کا جلتا چراغ " فرعون کے دربار میں موسی ع کا عصاء نماز باجماعت گھر کے افراد کے ساتھ پڑھیں ۔ ایک گھنٹہ طے کرلیں کہ وہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر دی میسیج ، عمر مختار ، ( دی لوائن اف ڈیزرٹ ) پیغمبر سیریز ، انہیں دکھائیں ۔ Teaching kids of holi Quran گوگل کریں اور بچوں کو قران کو دلچسپی کے ساتھ پڑھنے دیجیے محترم تقی عثمانی صاحب نے بچوں کے لیے بہترین کام۔کیا ہے ۔ کوئی آیت ...

بچوں کی تربیت, ذمہ دار بنانے کے لیے مشورے

 خان مبشرہ فردوس   ایڈیٹر افکار نو  اورنگ آباد مہارشٹر   بچے خاندان کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔۔ بچوں کی تربیت سلیقہ مندی،،  اداب ،، تہذیب  ، احساسِ ذمہ داری،  اعتماد،،  ہماری تربیت کی عکاسی کرتے ہیں،   بچے اللہ کی طرف سے ہمارے پاس امانت ہیں ۔ بچوں میں وہی عادتیں جو ہم پروان چڑھاتے ہیں انکی شخصیت کا حصہ بنتی ہیں ۔ ذمہ داری کا احساس،،  زندگی کے ہر میدان میں انسان کو ذمہ دار بناتا ہے احساسِ ذمہ داری کی بنیاد بچپن ہی سے بچوں میں رکھی جاتی ہے ۔۔کولی اور میڈ کے نظریہ کے مطابق بچپن ہی سے بچوں میں اپنی ذات اور ملکیت کا احساس ابتدائی چار چھ ماہ ہی میں پیدا ہوجاتا ہے،،  جب بچہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ "" یہ اسکی ماں ہے اسے کوئی نہ چھوئے،،  یہ میری چیز ہے،،  یہ میرا کھلونہ ہے،،  یہ میرا اسکول بیگ یہ میرا لباس،،  احساس ملکیت ہی کے ساتھ ساتھ بچے میں اپنی چیزوں کے تئیں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ۔۔۔جس زمانے میں بچے اپنی چیزیں رکھنا شروع کرتے ہیں اسی زمانے میں والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی اس کام پر تعریف کری...

ڈرامہ ارطغل غازی سے متعلق ہماری رائے

 خان مبشرہ فردوس  ایڈیٹر افکار نو اورنگ آباد مہاراشٹر   ارطغرل ڈرامے سے متعلق اپنی رائے  ہر انسان کا کسی بھی چیز کو دیکھنے,   سمجھنے اور پیش کرنے کا انداز اسکے فہم اور استعداد فہم۔پر موقوف ہوتا ہے  یقین مانیں ارطغرل کو دیکھنے کے بعد جس قدر خوشی ہوئی اتنا ہی تکلیف اس سے جڑے گروپس میں اس کو سمجھنے والی پوسٹ دیکھ کر ہورہی ہے ۔ بے شمار تبصرے اس ڈرامے پر پڑھے ہیں  مثبت بھی کچھ تھے منفی تو بے شمار ہیں فتوی بھی بے حساب تھے  کسی نے کہا کہ خواتین کا عشق و محبت قابل اعتراض ہے,  کسی نے بے پردگی کو ٹارگیٹ کیا  کسی نے قتل اور سفاکی کو نشانہ بنایا  کسی نے کہا کہ سافٹ بم ہے  کسی اس ڈرامے کے ولن کردار کو موجودہ سیاسی کشاکش سے جوڑنے پر اکتفا کیا  کسی نے کہا ترکی نسل پرستی ریس ازم کا پیغام غالب ہے ۔  کسی نے کہا فکشن نگاری سے مغلوب تاریخ گردانا تو  کسی نے رمضان کے متبرک لمحات میں شیطانی کی کوشش بھی کہا ۔ بھارت میں ہوئے حالیہ احتجاج کو ارطغل ڈرامے کی تحریک کا شاخسانہ بھی کہنے سے بعض نے گریز نہ کیا,  کسی نے روحانی پہلو پر ض...

محبت کسے کہتے ہیں۔؟ کیا کہتا ہے آپکا تخیل

خان مبشرہ فردوس                                                       اورنگ آباد مہارشٹر محبت اگر مجسم ہوتی تو کیسی ہوتی کیا کہتا آپ کا تصور   ہم نے محبت کو مجسم دیکھا ہے  جوتوں میں لہو بھرنے کے باوجود  اٹھ کھڑے ہوتے اس مسافرِدَیر(  ﷺ) کی طرح جو کہتے رہے "  میں تمہیں آگ کے گڑھے سے بچانے کی تگ و دو میں ہوں ۔"  پھولوں کی لدی ہوئی شاخ کی طرح  بوڑھی ماں کی ناتواں جھری بھرے متفکر چہرے کی لائنوں کی طرح  پیٹھ پر بوجھ ڈھوتے مزدور  باپ میں  حلال کمائی سے بڑی مشکل سے بچت کرکے اپنی بیوی کے گجرا لاتے محبوب شوہر میں۔ جاب کی تلاش میں خوار ہوتے بیٹے اور بھائی  جب وہ تھک کر نڈھال آنکھیں موندے کر حالات سے نکلنے کی راہ میں مستغرق ہو ۔ اس بچے کی طرح جس کی ماں کھو گئی اور وہ اچانک مل جائے ۔ پیدائشی معذور بچے کی چالیس سال کی عمر تک خدمت گار ماں میں محبت کو مسخر دیکھا ہے ۔ معذور شوہر کے وھیل چئیر کو دھکا دیتی بیوی میں ۔ م...

لینے والے ہاتھ سے بہتر دینے والا ہاتھ ہے

خان مبشرہ فردوس  اورنگ آباد مہارشٹر  کمزوروں کی مدد کرنا بہت اچھی بات ہے راشن کٹ,  یا پیسے دیں  یا قرض دے کر  امداد دینے کا جذبہ تو کھل کر آیا اس لاک ڈاون میں  رپورٹ بھی بہترین رہی ہے ۔ تاہم اس پر بھی غور کریں کہ امت کو لینے والی کیفیت سے کیسے نکالیں ۔۔۔امداد لینے کی کیفیت  میں کسی کو رکھنا اچھی بات نہیں ۔ کوئی ٹھوس پروگرام ہو کہ وہ بیوہ عورتیں غریب مسکین گھرانے بے روز گار افراد کس طرح خود کفیل ہوسکیں اور ھمدردی اور مدد لینے کی کیفیت سے نکل آئیں ۔  تاکہ ان کی خودداری باقی رہے ۔۔۔ کیونکہ جب  ان کے  بچے  والدین کو امداد لیتے دیکھیں گے تو بعید نہیں مداد لینے کی قباحت ان کے دل سے جاتی رہے گی ۔ ہمارے امداد  تقسیم کے نظام میں چھپ کر دینے کے بجائے ٹیگ کرکے امداد دینے اور نام و نمود  کا پہلو  غالب رہتا یا غیر محسوس طریقے سے دیں بھی تو  پوری فیمیلی بشمول بچوں کے سامنے رہتا ہے یہ پہلو  یا تو ان کے نسلوں سے اسکی قباحت ختم کردے گا یا, ,  یہ احساس بچے کی  خوداری پر ضرب لگائے  گا اور انہیں  متنفر بنادے...

آن۔لائن تجارت مواقع اور امکانات برائے خواتین

خان مبشرہ فردوس اورنگ آباد مہاراشٹر سوشل میڈیا کے ذریعہ کس طرح مختلف کام انجام دئیے جاسکتے ہیں یہ سوال اکثر طالبات پوچھتی ہیں ۔ اب تک اکثر والدین سے گفتگو کے دوران یہ احساس ہوا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا میں فیسبک ایپ, ٹیوٹر یا, انسٹا گرام, چیٹ ان, کورا, اسکائپ وغیرہ پر بچوں کے بگڑنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔اس لیے کبھی خیال نہیں گزرا کہ ایسی تحریر لکھیں جس میں بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کی ترغیب ملے ۔والدین اپنے بچوں کے لیے اگر بچنا درست سمجھتے ہوں تو بچنا ہی بہتر ہے ۔ تاہم لاک ڈاون کے دوران ہم دیکھ رہے ہیں سوشل میڈیا سوشل ڈسٹینسنگ کے دوران بھی ایک رول پلے کررہا ہے اور تعلیمی نقصان سے بچنے کے لیے حکومت, تعلیمی ادارے, وارچوول کلاس روم ڈجیٹل ذرائع سے تدریس کے حق میں ہیں اور آن لائن تدریس ہی بہتر آپشن بن گیا ہے ۔اور تقریبا ہر طالب علم کو ڈوائس استعمال کی اجازت مل چکی ہے ۔ ایسے ماحول میں پیرنٹنگ کے تقاضے بھی بڑھ جائیں گے وہیں چھوٹے بچوں کے لیے اس پر ان شاء اللہ آئندہ علحیدہ مضمون میں بات ہوگی , تاہم 14 سال سے زیادہ عمر کے طالبہ و طالبات کے لیے ذمہ داری بنتی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریع...

کرونا کا مقابلہ ۔۔ذمہ دارانہ رویہ کے ساتھ ممکن ہے

!! خان مبشرہ فردوس اورنگ آباد مہارشٹر  ذمہ دارانہ رویہ ہی کرونا سے مقابلے کی درست حکمت عملی ہے ۔ لوگوں کے  کرونا ابتلاء کے  واقعات سنیں دل درد سے بھر جائے گا ۔ کرونا سے بچیں سکتہ طاری کردینے والے مناظر  بے احتیاطی کی وجہ سے ہمارے بھی ہوسکتے ہیں ۔موت سے کس کو بھلا  کہاں  نجات  ہے موت تو برحق ہے جب آئے گی کسی طور آئے گی  لیکن موت کے آنے اور دورِ وبا میں  جانتے ہوئے موت کے قریب جانے میں بہت فرق ہے ۔   اپنے سے جڑے رشتوں ۔۔بوڑھے والدین معصوم بچوں کے لیے احتیاط ذمہ دارانہ روئے کا غماز ہے ۔ ذمہ دار انسان اپنی زندگی کو کبھی احساس سے خالی نہیں رکھتا ۔۔یہ ایسا ہی ہے جیسے گھر میں شوگر پیشنٹ ہو تو خواتین بغیر شکر کی چائے ان کے لیے الگ بناتی ہیں ۔  ہارٹ پیشنٹ ہو نمک اور آئل کم یوز کرتی ہیں ۔ چھوٹے بچوں کا احساس انہیں پکاتے ہوئے مرچ کم رکھنے کی یاد دلاتا ہے ۔ خواتین پکاتے ہوئے سبزیوں کو دھوتے ہوئے خیال رکھتی ہیں کہ اس پر لگی ادویات میری فیمیلی کے لیے نقصان دہ ہیں ۔ گھر میں بڑے اسی ذمہ داری کی وجہ سے ایک دوسرے کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہیں کہ بچے ...

آن لائن کلاسیز چھوٹے بچوں کے لیے نقصاندہ ہے

                                                       خان مبشرہ فردوس                                                      اورنگ آباد مہارشٹر                  کل تک جو تعلیمی ماہرین,  اساتذہ,  اور ویل ایجوکیٹیڈ   والدین یہ کہا کرتے تھے کہ بچوں کے ہاتھ میں ڈیوائس نہ دیں بچوں کے لیے نقصاندہ ہے ۔۔آج اچانک اس کے نقصان کو بھول کر بچوں کی آن لائن کلاس کے حق میں ہیں ۔ 14 سال سے کم عمر بچوں کی یہ کیفیت قابل رشک نہیں قابل رحم ہے ۔ بچوں کی تعلیم۔کے لیے  فکر مند,  بچوں کی مسابقت کےلیے  ہر مصروفیت  کو تج دینے والے والدین ان کے مستقبل کے لیے کیا بہتر کررہے اور کیا برا  اس بات سے نابلد ہیں ۔ تین گھنٹے مستقل ایک پوزیشن میں سکرین کے سامنے بیٹ...