Skip to main content

Posts

Showing posts from 2022
فنون لطیفہ اور خواتین  ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس خواتین کی معاشی سرگرمیوں سے متعلق  ہم بات کرچکے ہیں ۔بلاشبہ اللہ رب العالمین نے ہر فرد کو مختلف اور ان گنت  صلاحیتوں کے ساتھ دنیا میں بھیجا، ہر فرد اپنے آپ میں اس نظام کائنات کا قیمتی اثاثہ ہے ۔خواتین کی خوابیدہ صلاحیتوں کے جوہر ان کے گھر کے انتظامی امور اور خاندان کی تنظیم سے واضح ہوتے ہیں، تاہم بدلتے زمانے کے ساتھ پر تعیش زندگی نے خواتین کو کئی ایک پرمشقت کاموں سے بری کردیا ہے، بہت سہولت کے ساتھ وہ اہم ترین کام انجام دیتی ہیں ۔ بچوں کی تربیت کی ذمہ داری پہلے صرف خاندانوں میں ہوا کرتی تھی، لیکن اب اسکولی نظام ہے، جہاں بچے اپنے دن کا بڑا وقت گزار لیتے ہیں ۔بدلے میں خواتین کے پاس بچوں کے بچپن کی نگہداشت کے بعد جوں ہی اسکول جانے لگتے ہیں، فارغ وقت بچتا ہے ۔ اس وقت کو کارآمد بنانے کے لیےتعمیری کام وقت کا اہم تقاضا ہے ۔ جہاں تجارتی معاملات میں اپنی صلاحیتوں کوبروئے کار لاتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے ،وہیں کچھ بہنیں تجارت کا مزاج نہیں رکھتیں، وہ علمی امورو فنون لطیفہ اور تصنیف و تالیف کے کام میں اپنے وقت لگانا چاہتی ہیں، انہیں چاہیے ک...
  خواتین کا  معاشی استحکام ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس کائنات کی مادی دولت پر اللہ رب العالمین نے انسان کو تصرف کی آزادی بخشی ہے ۔جو دولت انسان اپنی محنت سے کمائے، اسے حلال کمائی کہتے ہیں۔کمانے کے مختلف طریقے ہیں، اوراس کی آزادی ہر دو مرد وعورت کو حاصل ہے ۔اگرچہ اللہ رب العالمین نے گھر کی معاشی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے،عورت کو ذمہ دار نہیں بنایا ،تاہم وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے، اپنے بچوں کی دیگر ضروریات کی تکمیل کے لیے نیز انفاق فی سبیل اللہ کے مقصد سے کمانے کی پوری آزادی رکھتی ہے ۔ معاش، حیات انسانی کاوہ اہم ترین شعبہ ہے کہ عمر عزیز کا بیشتر حصہ غم فردا میں گزرتا ہے۔ صبح سے شام اور شام سے صبح ایک ہی فکر انسان کو گھائل کیے رکھتی ہے کہ اسے بہر صورت ضروریات زندگی کےحصول کویقینی بنانا ہے ۔ عارضی معاش کی صورت میں ایک نادیدہ سا خوف ، سائے کے مانند انسان کے ساتھ ساتھ رہتا ہے اور مستقل معاش کی تگ و دو کے لیے ایک محرک کا کر دار ادا کر تا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام نے اس فطرت انسانی کا خاص خیال رکھا ہے اور جابجا حصول معاش کی دوڑ دھوپ کا حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فإذا قضيت ...
  خوف کی نفسیات بچپن چھین لیتی ہے! Views:   19 زمرہ :  بولتی تصویریں ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس خوف انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔بچپن ہی میں استاد کی مار کا خوف یا والدین کی مار کا خوف یا اکثر گھروں میں کوئی ایک ہیولہ بچے کے ذہن میں ثبت ہوجاتا ہے کہ فلاں بڈھا آجائے گا جلدی کھالو، عبداللہ آکر پکڑ لے گا فورا سوجاؤ۔بچے کے ذہن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو جکڑ لیتا ہے۔ جس وقت بچے کو ڈانٹا یا خوف دلانے کے لیے اشارہ کیا جاتا ہےعین اسی وقت اس کا دماغ اچانک پڑنے والی افتاد پر سہم کر رہ جاتا ہے اور ردعمل کے لیے کوئی سگنلز اسے نہیں دیتا اور بچہ خالی الذہن ہوکر تاکتا رہتا ہے۔ وہ نئے زاویہ سے کسی مسئلہ کے حل پر سوچنے کے بجائے سہم جاتا ہے۔عموما گھروں میں بچوں سے کام کروانے کے لیے ماؤں کا یہ کہنا بہت ہی آسان ہے جیسے یہ کام نہ کرو پاپا ماریں گے یا یہاں نہ جاؤ، وہاں سے گزرو مہمان کیا کہیں گے، دنیا نام رکھے گی، ہماری عزت خاک ہوگی، فیل ہوجاؤ گے۔بظاہر اس طرح کام کی تحریک دلانے والے الفاظ ہمارے اپنے تئیں تربیت کا حصہ ہیں لیکن کبھی ہم نے غور کیا کہ بغیر وجوہات کے صرف ممنوعات کو آرڈر کی بنیاد ...
  بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت پر کووڈ 19 اور لاک ڈاؤن کے اثرا ت ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس مقاصد : اس تحقیقی مقالے کا مقصد کووڈ 19 اور دوران لاک ڈاون بچوں اور بڑوں پر ہونے والے نفسیاتی اثر اور ذہنی صحت کا مطالعہ کرنا ھندوستان کے تناظر میں بچوں اور بڑوں کی ذہنی صحت پر پڑے ان اثرات کو دور کرنے کے لیے رہنمائی کرنا ہے۔ طریقۂ کار : مختلف بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تحقیقات کا مطالعہ بذریعہ ڈیجیٹل ڈیوائس اور عام مشاہدہ سوالات پر مبنی ایک سروے جس میں دیگر سماجی ذمہ داران اساتذہ اور سرپرستان سے اور چائلڈ سینٹر ڈاکٹرز سے ٹیلی فونک گفتگو بھی شامل ہے۔ اساتذہ سے سوالات کے ذریعہ نوعمر بچوں کی تعلیمی حالت پینڈمک سے پہلے اور پینڈمک کے بعد تقابل اور طریقۂ کار۔ تحقیقی مقالے کا مرکز : کووڈ 19 ، لاک ڈاون، ذہنی صحت، بچے اور نوجوان تعارف : تقریبا 2.2 بیلین بچے عالمی سطح پر تقریبا دنیا کی کل آبادی کا 28 فیصد جن کی عمر 10 سال سے 19 سال کے درمیان ہے بہ سبب کووڈ 19 کے نظامِ زندگی معطل ہونے پر متاثر ہیں۔جنوری 2020 سے ہی ساری دنیا میں کووڈ 19 کے سبب لاک ڈاون میں نہ صرف بڑے بلکہ بچے بھی محصور ہوکر رہ گئے ہی...