ترغیب

ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس
دیکھو بیٹا پڑھو گے لکھو گے نہیں تو تمہارا بھی یہی انجام ہوگا اسی طرح تم بھی لوگوں کے سامنے
دست سوال دراز کروگے ۔ دوسری ماں نے ترغیب دیتے ہوئے کہا! دیکھو بیٹا تم پڑھ لکھ لوتو اس ضرورت مند کی طرح اور کئی لوگوں کے مسائل حل کرسکو گے ۔ بظاہر یہ دونوں جملے ہیں جو بچے کو پڑھنے کی ترغیب دینے کے لیے کہے گئے ہیں ۔ لیکن یہ عام جملے نہیں آپ کے بچے کی زندگی کا نظریہ بن جائیں گے ۔ عموما ہم بچوں سے گھروں میں کہتے ہیں نہیں پڑھو گے تو ہوٹل پر کپ دھونے کے لیے رکھوادیں گے یا نہیں پڑھو گے تو رکشہ چلاؤ گے ۔ یہ جملے نہیں پیشے اور پیشے سے جڑے افراد سے نفرت کے بیج ہم بو رہے ہیں ۔رفتہ رفتہ وہ انسانوں کو ان کے پیشے اور مادی معیار سے تولنا شروع کردیتے ہیں ۔ ترغیب کے لیے آپ یوں بھی تو کہہ سکتے ہو جیسا کہ ایک ماں نے کہا بیٹا پڑھ لکھ کر تم ہر غریب کی مدد کے قابل بن سکتے ہو ۔
Comments
Post a Comment