Skip to main content

 

کچھ خار کم کئے گزرے جدھرسے ہم


ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس
آپ کی ذات لوگوں کے درمیان صلح کرنے والی ہونی چاہیے جہاں سے گزریں وہاں وہاں صلح
 کرائیں ۔ انسانوں کے نفسیاتی مسائل آپ کے ذریعہ حل ہوں، لوگوں کے فیملی تنازعات آپ حل کرنے والے ہوں ۔جہاں جس حال میں ہوں لوگوں کے لیے آسانی فراہم کرتے ہوئے گزریں، انسانوں کے مسائل حل کرتے ہوئے گزرنا ایسا ہی ہے جیسے تکلیف دہ پتھر کو راستے سے ہٹاتے ہوئے گزرنا ۔ آپ کی ذات جس قدر مادی دنیا سے بے نیاز ہوتی ہے آپ اسی قدر اللہ کی مخلوق کی بے لوث خدمات کرنے والے ہوتے ہیں ۔ اور جس قدر انسانوں کے مددگار بنتے ہیں آپ کی نسلیں بھی آپ سے عملا وہی سبق سیکھتی ہیں ۔ نسلوں کو وراثت کے ساتھ انسانیت کا درس بھی دیتے ہوئے دنیا سے گزریں مادی دنیا کا وجود فانی ہے اور اللہ کےبندوں کی خدمت کو آخرت تک دوام ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

لینے والے ہاتھ سے بہتر دینے والا ہاتھ ہے

خان مبشرہ فردوس  اورنگ آباد مہارشٹر  کمزوروں کی مدد کرنا بہت اچھی بات ہے راشن کٹ,  یا پیسے دیں  یا قرض دے کر  امداد دینے کا جذبہ تو کھل کر آیا اس لاک ڈاون میں  رپورٹ بھی بہترین رہی ہے ۔ تاہم اس پر بھی غور کریں کہ امت کو لینے والی کیفیت سے کیسے نکالیں ۔۔۔امداد لینے کی کیفیت  میں کسی کو رکھنا اچھی بات نہیں ۔ کوئی ٹھوس پروگرام ہو کہ وہ بیوہ عورتیں غریب مسکین گھرانے بے روز گار افراد کس طرح خود کفیل ہوسکیں اور ھمدردی اور مدد لینے کی کیفیت سے نکل آئیں ۔  تاکہ ان کی خودداری باقی رہے ۔۔۔ کیونکہ جب  ان کے  بچے  والدین کو امداد لیتے دیکھیں گے تو بعید نہیں مداد لینے کی قباحت ان کے دل سے جاتی رہے گی ۔ ہمارے امداد  تقسیم کے نظام میں چھپ کر دینے کے بجائے ٹیگ کرکے امداد دینے اور نام و نمود  کا پہلو  غالب رہتا یا غیر محسوس طریقے سے دیں بھی تو  پوری فیمیلی بشمول بچوں کے سامنے رہتا ہے یہ پہلو  یا تو ان کے نسلوں سے اسکی قباحت ختم کردے گا یا, ,  یہ احساس بچے کی  خوداری پر ضرب لگائے  گا اور انہیں  متنفر بنادے...
  ہم پہ دروازے کھلیں گے دانش و ادراک کے۔۔! رڈاکٹر  خان مبشرہ فردوس رات کی سیاہی جب زمانے پر چھا جاتی ہے تو ہر آنکھ دیکھ اور سمجھ سکتی ہے لیکن جہل کی تاریکی، زمانے پر اور معاشرے پر چھائی ہو تو وہی آنکھ دیکھ سکتی ہے جو قران مجید کو تدبر کا موضوع بناتی ہے ۔اس وقت مسلمانوں پر ہونے والی یلغار چاہے اندرونی ہو یا بیرونی اھل ایمان کی قران سے دوری کی جانب اشارہ کررہی ہے ۔ یہ ہمارا ایمان ہے کہ قران مجید کسی مخصوص گروہ یا قوم کے لیے نہیں بلکہ کرہ ارض پر موجود ہر فرد کے لیے یہ دستور سازگار ہوگا کیونکہ یہ خالق کائنات کا نظام ہے اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے جو اس کو سمجھ لے وہ لازما اس بات کا دل میں اقرار کرے کہ یہ کلام اللہ کی تاثیر ہے ۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اس پیغام کو عام کریں اور اس طرح کریں کہ دعوت کے بغیر بھی لوگ عمل سے کہیں کہ یہی وہ نظام ہے جس میں انسانوں کے لیے فلاح ہے۔ ہمارے اسلاف کا کردار قران کے سانچے میں ڈھلا ہوا وہ شفاف کردار تھا کہ دیگر اقوام دیکھ کر ہی کھنچی چلی آتی تھیں۔ لیکن حیف کہ ہماری کمزوری، ہماری کوتاہی، اور قران سے دوری نے ہماری زبان کو مقفل...

ڈرامہ ارطغل غازی سے متعلق ہماری رائے

 خان مبشرہ فردوس  ایڈیٹر افکار نو اورنگ آباد مہاراشٹر   ارطغرل ڈرامے سے متعلق اپنی رائے  ہر انسان کا کسی بھی چیز کو دیکھنے,   سمجھنے اور پیش کرنے کا انداز اسکے فہم اور استعداد فہم۔پر موقوف ہوتا ہے  یقین مانیں ارطغرل کو دیکھنے کے بعد جس قدر خوشی ہوئی اتنا ہی تکلیف اس سے جڑے گروپس میں اس کو سمجھنے والی پوسٹ دیکھ کر ہورہی ہے ۔ بے شمار تبصرے اس ڈرامے پر پڑھے ہیں  مثبت بھی کچھ تھے منفی تو بے شمار ہیں فتوی بھی بے حساب تھے  کسی نے کہا کہ خواتین کا عشق و محبت قابل اعتراض ہے,  کسی نے بے پردگی کو ٹارگیٹ کیا  کسی نے قتل اور سفاکی کو نشانہ بنایا  کسی نے کہا کہ سافٹ بم ہے  کسی اس ڈرامے کے ولن کردار کو موجودہ سیاسی کشاکش سے جوڑنے پر اکتفا کیا  کسی نے کہا ترکی نسل پرستی ریس ازم کا پیغام غالب ہے ۔  کسی نے کہا فکشن نگاری سے مغلوب تاریخ گردانا تو  کسی نے رمضان کے متبرک لمحات میں شیطانی کی کوشش بھی کہا ۔ بھارت میں ہوئے حالیہ احتجاج کو ارطغل ڈرامے کی تحریک کا شاخسانہ بھی کہنے سے بعض نے گریز نہ کیا,  کسی نے روحانی پہلو پر ض...