کچھ خار کم کئے گزرے جدھرسے ہم

ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس
آپ کی ذات لوگوں کے درمیان صلح کرنے والی ہونی چاہیے جہاں سے گزریں وہاں وہاں صلح
کرائیں ۔ انسانوں کے نفسیاتی مسائل آپ کے ذریعہ حل ہوں، لوگوں کے فیملی تنازعات آپ حل کرنے والے ہوں ۔جہاں جس حال میں ہوں لوگوں کے لیے آسانی فراہم کرتے ہوئے گزریں، انسانوں کے مسائل حل کرتے ہوئے گزرنا ایسا ہی ہے جیسے تکلیف دہ پتھر کو راستے سے ہٹاتے ہوئے گزرنا ۔ آپ کی ذات جس قدر مادی دنیا سے بے نیاز ہوتی ہے آپ اسی قدر اللہ کی مخلوق کی بے لوث خدمات کرنے والے ہوتے ہیں ۔ اور جس قدر انسانوں کے مددگار بنتے ہیں آپ کی نسلیں بھی آپ سے عملا وہی سبق سیکھتی ہیں ۔ نسلوں کو وراثت کے ساتھ انسانیت کا درس بھی دیتے ہوئے دنیا سے گزریں مادی دنیا کا وجود فانی ہے اور اللہ کےبندوں کی خدمت کو آخرت تک دوام ہے ۔
Comments
Post a Comment