ماضی کا بوجھ

ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس
ماضی کا بوجھ لے کر چلنے والے افراد منزل کی جانب بوجھل قدموں سے چلتے ہیں اور چلتے چلتے تھک جاتے ہیں ۔زندگی میں ہلکے پھلکے آگے بڑھنے کے لیے انسانی رویوں کو اور درد و تکلیف کے دنوں کے بوجھ کو فوراً نکال کر ہشاش بشاش آگے بڑھنا عقل مندی ہے ۔ کبھی ایسی خواتین کو دیکھا ہے جو بہترین اور پُر تعیش وقت گزارتے ہوئے بھی ہر نشست میں آپ کو شادی کے چند ماہ کے تکلیف دہ واقعات سناکر نم دیدہ ہوتی ہیں اور وہ یہ کہانی ستر سال کی عمر میں بھی بیان کررہی ہوتی ہیں۔ پس وہ ماضی کا بوجھ لے کر چلتی ہیں اور ہمیشہ تھکی رہتی ہیں یہاں تک کہ پیوند خاک ہوجاتی ہیں۔ یہ عادت آپ کو پتہ ہے کب لگتی ہے ۔؟ بچپن ہی میں جب آپ کے گھر کے افراد برے وقت کو دہرا دہرا کر اداس ہوتے ہیں ۔تب بچوں کو بھی نسٹالجیہ کا مرض لاحق ہوتا ہے اور وہ بھی اپنے برے ماضی کو دہراکر خود ترسی کی کیفیت سے لطف انداز ہونے لگتے ہیں اور یہ مرض ان کی پوری زندگی کو متاثر کرتا ہے ۔ماضی حال کو برباد کرتا ہے مستقبل میں کمزور بنادیتا ہے ۔
Comments
Post a Comment