Skip to main content

 تعمیرِ خودی کر

ھادیہ کے پہلے شمارے میں آپ کا استقبال ہے۔ یہ میگزین خواتین کا ایک پلیٹ فارم ہے جس کی اساس ہی میں یہ بات شامل ہے کہ یہ خواتین کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ ثابت ہوگا نہ صرف ہمارے احساسات کا ترجمان ہوگا بلکہ جدید تقاضوں کے ساتھ اپنے قارئین کو فوز و فلاح کی حقیقت سے روشناس بھی کروائے گا ۔ہندوستانی سماج میں خواتین کے مسائل، محروم طبقات کے تئیں منفی سوچ، اور صنفی تفریق، ناانصافی، غیر متوازن تقسیم، اور ان کے دائرہ عمل کی حقیقی صورتحال کی ترجمانی کرے گا ۔ ٹوٹتے بکھرتے خاندان، کمزور پڑتے ازدواجی رشتے، دووقت کی روٹی کے لیے اپنا تقدس پامال کرتی خواتین یا ضرورتوں کی تکمیل کے لیے سخت تگ ودو کرتی ہوئی خواتین ،ظلم وجبر جو ان پر علمی و مادی کمزوری کی وجہ ہوتا آرہا ہے اور ان کی آوازِناتواں کو محض نقار خانے میں طوطی کے بول سمجھ کر نظر اندازکیا جاتا رہاہے ۔
یہ میگزین خواتین کی صفوں سے خواتین کے لیے خواتین کی اٹھنے والی مضبوط آواز ثابت ہوگا ۔

تعلیم :

دنیا اس انقلاب کو جانتی ہے جس نے مختصر ترین وقت. میں انسانوں کو خدا کا بندہ بنادیا اس انقلاب کی ابتداء ہی “ اقراء “ پڑھ سے تعبیر ہے ۔الحمدلله ھادیہ بھی تعلیم کا مشن رکھتا ہے۔ھادیہ کے نزدیک تعلیم کا مقصد اسکول کی چہار دیواری ہی کی تعلیم نہیں بلکہ خواتین کے تمام شعبہ ہائے زندگی میں مستقل رہنمائی کا نام ہے ۔ علم کے حقیقی مفہوم سے روشناس کرانا اور عمل کی سپرٹ پیدا کرنا اس کا مقصد ہے سیکھنے کا یہ عمل قلمکار و قاری کے درمیان مضبوط رشتہ استوار کرنے کا سبب بنے گا ۔اس کے قلمکار ان شاءاللہ اپنے قلم سے انسانیت کی فلاح و بہبودی کے لیے بے باک اور تعمیری قلم کار ثابت ہوں گے۔تعلیم انہیں خدا بیزار و انسان بیزار نہ بنائے بلکہ وہ علم کے ذریعہ اپنے مقام کو پہچان سکیں جس کے ذریعہ انسان رب العالمین کا بندہ بن سکے زمین پر عظیم مقصد کے ساتھ وہ اپنے مہلت عمل کو قیمتی جان سکے۔
ھادیہ اپنے قارئین میں عظمتِ رفتہ کی بحالی کا احساس اجاگر کرے گا “ خیر الناس مع ینفع الناس “ کے تصور کو گرہ میں باندھ کر زندگی گزارنے کے لطف سے آشنا کروائے گا ۔
خواتین کے نفسیاتی مسائل، جسمانی کمزوری، تربیت اولاد، فوز وفلاح، گھریلو مسائل، ازدواجی تعلقات، سماجی مسائل، سماج میں خواتین کا وقار اور ان کے حقوق اور فرائض ۔ان کی اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لاکر نشوونما کے نئے مواقع فراہم کرے گا ۔
موجودہ ھندوستان میں ہم خواتین کے پاس بے شمار مسائل ہیں۔
• اولاد کی تربیت کیسے کریں؟
• الحادی افکار سےبچوں کو کیسے دور رکھیں؟
• کیسے فیشن پرستی کی اس سیلاب پر بند باندھیں .؟
• اسلام پر اٹھنے والے اعتراضات کا جواب میڈیا کو کیسے دیں ۔؟
وطنی بہنوں کے درمیان کیسے اپنا وقار بحال کریں ان کے ذہن میں بوئی گئی نفرت کے ازالے کے لیے کیسے دعوتی حکمت عملی تیار کریں ۔ھادیہ ای – میگزین ہمارے لیے سیکھنے اور سکھانے کے لیے نئے در وا کرے گا ۔تعلیم و ترقی میں ممد ومعاون بنے گا۔

تدبیر :

ھادیہ کا دوسرا مشن تدبیر ہے ۔پوری دنیا اس وقت دو حصوں میں تقسیم ہے ایک وہ جو مسائل سے گھبراتے نہیں اسے تدبیر سے دفع کرتے ہیں تمام ایجادات و ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب بروقت تدبیر کا مرہون منت ہے ۔تمدن کے ارتقاء میں انسان کی تدبیری کوششوں کا بڑا دخل ہے ۔اور ایک گروہ وہ ہے جو ہمہ وقت قسمت سے اور انسانی رویہ سے شاکی ہوتے ہیں یا توکل کے مفہوم سے نااشنائی کے سبب معطل قوی کے ساتھ زندگی گزار دیتے یا مصائب و پریشانی کے وقت حوصلہ کھودیتے ہیں ۔مسائل کےسخت سےسخت پہاڑ ایک بہتر تدبیر کے ذریعہ ریت کے ٹیلوں میں تبدیل کیے جاسکتے ہیں، جو قومیں تدبیریں تلاش کرتی ہیں وہ منزلِ مراد کو پالیتی ہیں ۔نبی کریم ﷺ کی میثاقِ مدینہ اور میدان جنگ کی خندقیں اس بات کو روشن کرتی ہیں کہ حالات کتنے ہی نا مساعد ہوں اس سے گھبراے بغیر توکل علی اللہ کے سہارے بہتر تدابیر اور صاحب ایجاد بن کر راہِ پر خطر کو بھی ہموار کیا جاسکتا ہے۔ تدبیر کی راہ میں اللہ نے مسائل کا، حل پوشیدہ رکھا ہے، بی بی ہاجرہ علیہ السلام کی اپنے بچے کی پیاس بجھانے کےلیے سعی ایک تدبیر کی مثال ہے، ذوالقرنین کی تدبیری کوششوں کی تفصیلات قرانی قصے میں موجود ہے

تعمیر:

زمین پر اللہ کے نظام کو قائم کرنے کی سعی دراصل تعمیر ہے یہ سعی کوئی آج اور کل کا شاخسانہ نہیں بلکہ یہ انسان کی پیدائش کا مقصد ہے ۔گویا کہ یہ ہمارا بھولا ہوا سبق ہے ۔تعمیر کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ بندہ خدا بیزار اور اور انسان بیزار نہ ہو ۔بے لگام گھوڑا جب دوڑتا ہے تو تخریب مچاتا ہے ۔اس کے برعکس وہ اپنے مالک کے مزاج اور رہنمائی پر چلتا ہے۔انسان جب اپنے خالق اور مالک سے احکامات کاپابند ہو تبھی وہ تعمیر کے لیے اٹھے گا ۔ بے لگامی خدا بیزاری چاہے زبان سے ہو یا عمل سے تخریب کا آغاز ہے ۔
وَاَمَّا مَا يَنۡفَعُ النَّاسَ فَيَمۡكُثُ فِى الۡاَرۡضِؕ (اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ )سورہ رعد آیت17
اللہ زمین میں انہی کودوام بخشتا ہے جو قومیں اپنے مقصد زندگی کو پہچانتی ہیں اللہ کی زمین پر تعمیری سوچ کے ساتھ زندہ رہتی ہیں ۔ہم یہ طے کریں کہ ہمیں خس وخاشاک کی طرح بہہ جانا ہے یا اپنی پیدائش کے مقصد کی تجدید کرتے ہوئے اللہ کی خوشنودی کو پانا ہے ۔ تعمیر اپنی ذات سے شروع ہوتی ہےاور اجتماعیت تک پھیل جاتی ہے۔ہر لمحہ ہمیں روئے زمین پر بسنے والوں کے مسائل کو اپنی ذات کا مسئلہ سمجھنے کی عادت ہی ہماری تعمیر کا محرک ہے۔ہمیں اپنی ذات کے خول سے نکلنا ہوگا ۔
سماجی فعالیت سے اپنے آپ کو آراسۃ کرنا ہوگا ۔ گویا اپنے اس کھوئے کردار کی بحالی کا، وقت ہوا چاہتا ہے ۔یہاں مراد عظمت رفتہ کی بحالی ہے جب تعمیری سوچ رکھنے والی خواتین نےپورے شعورواحساس ،دیانت داری کے ساتھ اپنا رول ادا کیا تو ان کی نسلیں انسانی تمدن کی قائد بن گئیں ۔
جب میدان عمل میں اترتیں تو باطل انگشت بدنداں ہواجاتا تھا ۔لوگ خواتین کے عظیم مقام اور حرکت و عمل کی آزادی کی وجہ سے اسلام کی طرف کھینچے چلے آتے تھے ۔
ھادیہ وہی تعمیری کردار پیدا کرنے کا خواہاں ہے
خورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں
آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں
جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں
جنت تری پنہاں ہے ترے خون جگر میں

Comments

Popular posts from this blog

لینے والے ہاتھ سے بہتر دینے والا ہاتھ ہے

خان مبشرہ فردوس  اورنگ آباد مہارشٹر  کمزوروں کی مدد کرنا بہت اچھی بات ہے راشن کٹ,  یا پیسے دیں  یا قرض دے کر  امداد دینے کا جذبہ تو کھل کر آیا اس لاک ڈاون میں  رپورٹ بھی بہترین رہی ہے ۔ تاہم اس پر بھی غور کریں کہ امت کو لینے والی کیفیت سے کیسے نکالیں ۔۔۔امداد لینے کی کیفیت  میں کسی کو رکھنا اچھی بات نہیں ۔ کوئی ٹھوس پروگرام ہو کہ وہ بیوہ عورتیں غریب مسکین گھرانے بے روز گار افراد کس طرح خود کفیل ہوسکیں اور ھمدردی اور مدد لینے کی کیفیت سے نکل آئیں ۔  تاکہ ان کی خودداری باقی رہے ۔۔۔ کیونکہ جب  ان کے  بچے  والدین کو امداد لیتے دیکھیں گے تو بعید نہیں مداد لینے کی قباحت ان کے دل سے جاتی رہے گی ۔ ہمارے امداد  تقسیم کے نظام میں چھپ کر دینے کے بجائے ٹیگ کرکے امداد دینے اور نام و نمود  کا پہلو  غالب رہتا یا غیر محسوس طریقے سے دیں بھی تو  پوری فیمیلی بشمول بچوں کے سامنے رہتا ہے یہ پہلو  یا تو ان کے نسلوں سے اسکی قباحت ختم کردے گا یا, ,  یہ احساس بچے کی  خوداری پر ضرب لگائے  گا اور انہیں  متنفر بنادے...
  ہم پہ دروازے کھلیں گے دانش و ادراک کے۔۔! رڈاکٹر  خان مبشرہ فردوس رات کی سیاہی جب زمانے پر چھا جاتی ہے تو ہر آنکھ دیکھ اور سمجھ سکتی ہے لیکن جہل کی تاریکی، زمانے پر اور معاشرے پر چھائی ہو تو وہی آنکھ دیکھ سکتی ہے جو قران مجید کو تدبر کا موضوع بناتی ہے ۔اس وقت مسلمانوں پر ہونے والی یلغار چاہے اندرونی ہو یا بیرونی اھل ایمان کی قران سے دوری کی جانب اشارہ کررہی ہے ۔ یہ ہمارا ایمان ہے کہ قران مجید کسی مخصوص گروہ یا قوم کے لیے نہیں بلکہ کرہ ارض پر موجود ہر فرد کے لیے یہ دستور سازگار ہوگا کیونکہ یہ خالق کائنات کا نظام ہے اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے جو اس کو سمجھ لے وہ لازما اس بات کا دل میں اقرار کرے کہ یہ کلام اللہ کی تاثیر ہے ۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اس پیغام کو عام کریں اور اس طرح کریں کہ دعوت کے بغیر بھی لوگ عمل سے کہیں کہ یہی وہ نظام ہے جس میں انسانوں کے لیے فلاح ہے۔ ہمارے اسلاف کا کردار قران کے سانچے میں ڈھلا ہوا وہ شفاف کردار تھا کہ دیگر اقوام دیکھ کر ہی کھنچی چلی آتی تھیں۔ لیکن حیف کہ ہماری کمزوری، ہماری کوتاہی، اور قران سے دوری نے ہماری زبان کو مقفل...

ڈرامہ ارطغل غازی سے متعلق ہماری رائے

 خان مبشرہ فردوس  ایڈیٹر افکار نو اورنگ آباد مہاراشٹر   ارطغرل ڈرامے سے متعلق اپنی رائے  ہر انسان کا کسی بھی چیز کو دیکھنے,   سمجھنے اور پیش کرنے کا انداز اسکے فہم اور استعداد فہم۔پر موقوف ہوتا ہے  یقین مانیں ارطغرل کو دیکھنے کے بعد جس قدر خوشی ہوئی اتنا ہی تکلیف اس سے جڑے گروپس میں اس کو سمجھنے والی پوسٹ دیکھ کر ہورہی ہے ۔ بے شمار تبصرے اس ڈرامے پر پڑھے ہیں  مثبت بھی کچھ تھے منفی تو بے شمار ہیں فتوی بھی بے حساب تھے  کسی نے کہا کہ خواتین کا عشق و محبت قابل اعتراض ہے,  کسی نے بے پردگی کو ٹارگیٹ کیا  کسی نے قتل اور سفاکی کو نشانہ بنایا  کسی نے کہا کہ سافٹ بم ہے  کسی اس ڈرامے کے ولن کردار کو موجودہ سیاسی کشاکش سے جوڑنے پر اکتفا کیا  کسی نے کہا ترکی نسل پرستی ریس ازم کا پیغام غالب ہے ۔  کسی نے کہا فکشن نگاری سے مغلوب تاریخ گردانا تو  کسی نے رمضان کے متبرک لمحات میں شیطانی کی کوشش بھی کہا ۔ بھارت میں ہوئے حالیہ احتجاج کو ارطغل ڈرامے کی تحریک کا شاخسانہ بھی کہنے سے بعض نے گریز نہ کیا,  کسی نے روحانی پہلو پر ض...