Skip to main content



فنون لطیفہ اور خواتین 

ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس

خواتین کی معاشی سرگرمیوں سے متعلق  ہم بات کرچکے ہیں ۔بلاشبہ اللہ رب العالمین نے ہر فرد کو مختلف اور ان گنت صلاحیتوں کے ساتھ دنیا میں بھیجا، ہر فرد اپنے آپ میں اس نظام کائنات کا قیمتی اثاثہ ہے ۔خواتین کی خوابیدہ صلاحیتوں کے جوہر ان کے گھر کے انتظامی امور اور خاندان کی تنظیم سے واضح ہوتے ہیں، تاہم بدلتے زمانے کے ساتھ پر تعیش زندگی نے خواتین کو کئی ایک پرمشقت کاموں سے بری کردیا ہے، بہت سہولت کے ساتھ وہ اہم ترین کام انجام دیتی ہیں ۔

بچوں کی تربیت کی ذمہ داری پہلے صرف خاندانوں میں ہوا کرتی تھی، لیکن اب اسکولی نظام ہے، جہاں بچے اپنے دن کا بڑا وقت گزار لیتے ہیں ۔بدلے میں خواتین کے پاس بچوں کے بچپن کی نگہداشت کے بعد جوں ہی اسکول جانے لگتے ہیں، فارغ وقت بچتا ہے ۔
اس وقت کو کارآمد بنانے کے لیےتعمیری کام وقت کا اہم تقاضا ہے ۔ جہاں تجارتی معاملات میں اپنی صلاحیتوں کوبروئے کار لاتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے ،وہیں کچھ بہنیں تجارت کا مزاج نہیں رکھتیں، وہ علمی امورو فنون لطیفہ اور تصنیف و تالیف کے کام میں اپنے وقت لگانا چاہتی ہیں، انہیں چاہیے کہ دلچسپی کا تعین کریں اور چند ایک اسکلز سیکھیں ۔آج کل خواتین کی سیکھنے کے لیے بہت سی سہولتیں موجود ہیں ۔
ان کے لیے بھی کچھ تجاویز ومشورے ذیل میں دیے جارہے ہیں :
(1) تدریس کے شعبے میں اہلیت رکھنے والی بہنیں جاب نہ ملنے سے پریشان ہیں، بلکہ مایوس بھی ہیں کہ وہ قابلیت اور اہلیت کے باوجود جاب لیس ہیں۔انہیں چاہیے کہ آن لائن زوم وغیرہ پر تدریسی فرائض انجام دیں ۔کچھ بہنیں جنہیں ہم جانتے ہیں، وہ بچوں کو تفاسیر پڑھاتی ہیں ۔ بچوں کو کارٹون کے ذریعہ قرآنی سورتوں کے واقعات پڑھائے جاسکتے ہیں ۔
(2) کاؤنسلنگ کورسیز آن لائن کروائے جارہے ہیں۔ آپ کاؤنسلنگ کورس کرنے کو ترجیح دیں ۔انسانی زندگی مادی دوڑ دھوپ کی وجہ جس قدر مشکلات اور نفسیاتی امراض کا شکار ہے، ہم اندازہ نہیں کرسکتے ۔شوہر بیوی کے درمیان تنازعات، بچوں میں تعلیمی مسابقت کا دباؤ، بزرگوں میں بڑھتی کمزوری اور جھنجلاہٹ، معاشی تنگی کی وجہ سے خاندانی چپقلش، نفسیاتی تناؤ کی کیفیت سے نکالنے میں ان کورسیز کے ذریعہ مہارت پیدا کرکے دوسروں کا تعاون کیا جاسکتا ہے ۔
(3) زبان میں مہارت پیدا کرکے ایڈیٹنگ ،پروف ریڈنگ یا اسکرپٹ رائٹنگ اورترجمہ نگاری کے کورسیز کے ذریعہ خواتین مہارت پیدا کرسکتی ہیں ۔
(4) علم وادب اور فنون لطیفہ کو سوشل میڈیائی دور میں بہت اہمیت حاصل ہے ،شعر وادب کے میدان میںخواتین ادب اسلامی سے جڑ کر صلاحیتوں کو نکھار سکتی ہیں ۔
اس حوالے سے مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے پروفیسر فروغ احمد کی کتاب ’’سواءالسبیل ‘‘کے دیباچے میں لکھا ہے، جسے محترم نجات اللہ صدیقی صاحب نے ’’ اسلام اور فنون لطیفہ میں‘‘ نقل کیا ہے :
’’ بنی نوع انسان جس المناک اضطراب میں مبتلا ہے، اس کا اصل سبب اعتدال کی سیدھی راہ سے اس کا بھٹک جانا ہے ۔اس حالت میں جن لوگوں کو سواء السبیل کی معرفت حاصل ہے، ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اٹھیں اور قوت کے ساتھ عالم انسانی کو اس کج روی سے روک کر سیدھی راہ پر چلائیں ۔ اپنی ادیبانہ صلاحیت کو انسانیت کے بھٹکانے میں نہیں، بلکہ راہ راست پر لانے میں استعمال کریں ۔کوئی شعر و ادب اپنی لفظی و معنوی خوبیوں کی بنا پر قابل قدرنہیں ہے ۔ وہ اگر زندگی کی صلاح وفلاح کے لیے نہیں کام کرتا تو ذہن کی عیاشی اور ار باب نشاط کی عشوہ گری ہے، اور اگر زندگی کو بگاڑنے کے لیے کام کرتا ہے تو میٹھا زہر ہے ۔ قدر کے قابل وہ صرف اسی وقت ہوتاہے، جب اس کا حسن زندگی کے جمال میں اضافہ کا موجب ہورہا ہے ۔‘‘
گویا اپنی ادبی کوششوں کو ہم دین کی سربلندی کے جلا بخشیں تو یہ بھی اپنے وقت کا تعمیری مقصد میں صرف ہونا قرار پائے گا ۔
(5) بامقصد اور اصلاحی افسانے لکھنے میں بھی اپنے وقت کو لگایا جاسکتا ہے ،جس طرح کے آپ افسانے پڑھیںگی، اسی طرز پر لکھنے کی عادت بنتی جائے گی ۔جن لوگوں نے تعمیری افسانوں کے ذریعہ اپنی فکر کے مقصد کو آگے بڑھا ہے ان کے افسانے پڑھ کر اسی طرز پر لکھا جاسکتا ہے ۔
عبدالحلیم شرر، علامہ راشد الخیری، ڈپٹی نذیر احمد، آل احمد سرور، پطرس بخاری،اے حمید، انتظار حسین، مائل خیر آبادی ، قرۃ العین حیدر کے افسانے پڑھ کر افسانے کے میدان میں فنی مہارت پیدا کی جاسکتی ہے ۔
(6) افسانے کے علاوہ شارٹ اسٹوری، مائیکرو فکشن، فلیش فکشن ، اسکرپٹ رائٹنگ پر بھی کورسیز کیے جاسکتے ہیں۔ افسانچے کے میدان میں بہت ترقی ہوئی، مصروف ترین دور میں لوگ طوالت سے کترانے لگے ہیں ،بہت کم وقت میں تعمیری ،جامع اور اچھا پیغام دیا جاسکتا ہے ۔مختصر افسانچہ، مائیکروفکشن اور اسے میکروف بھی کہا جاتا ہے۔ سب سے مختصر افسانہ ہیمنگوے(Hemingway) کا یہ افسانہ ہے :
‘‘.For sale: baby shoes, never worn’’
یہ ایک مختصر ایوارڈ یافتہ افسانہ ہے، جو بیک وقت مختصر بھی ہےاور قاری کو دیر تک سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے ۔مختصر لفظوں میں اپنی بات بیان کرنا ایک خوبی ہے ۔خواتین اس میںمہارت حاصل کرکے اسلام کے پیغام کو مختصر الفاظ میں بیان کرسکتی ہیں ۔
(7)سائیلنٹ فکشن بھی موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی صنف ہے۔ آپ نے سوشل میڈیا پر جہیز کو ایک بیل گاڑی پر لاد کر کھنچتی ہوئی دلہن دیکھا ہوگا؛ یہ بھی خاموش افسانچے کی مثال ہے، بغیر ڈائیلاگ کے صرف خاموش ویڈیو سے بھی اپنا پیغام پہنچایا جاسکتا ہے ۔
(8)ا سکرپٹ رائٹنگ بھی پیغام رسانی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ ہماری خواتین اپنی مہارت سے کسی افسانے، ناول یا اسٹوری کو مکالمے میں تبدیل کرسکتی ہیں۔
(9) کیلی گرافی اور پینٹنگ بھی خواتین کے لیے نہایت دلچسپ شعبےہیں۔ایرانی طالبات قرآن کی آیات کی کیلی گرافی کرکے قرانی آیات کی ترویج میں اپنا حصہ لیتی ہیں۔
(10) کوکنگ، خواتین کے دلچسپی کا شعبہ ہے ۔علم امورِ خانہ داری پہلے مدارس کا ایک مضمون ہوا کرتا تھا۔ اب گھریلو زندگی کا رجحان کم ہوتا جارہا ہے۔ گھریلو ٹپس اورکوکنک چینل کے ذریعہ سلیقہ مندی کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔
ان تمام امور پر کڑی محنت اور مہارت درکار ہے،تاہم یہ سب سے اہم ہے کہ ہر فرد کے پاس تعمیری کام ہو۔ انسانیت کی فلاح وبہبودی میں خود کو لگا سکتا ہے ۔یہ مذکورہ بالا تخلیقی صلاحیتیں خواتین کے لیے تعمیری بھی ہیں،اور ان کے پیچھے فکر بھی صالح ہے ۔
سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ یہاں میک اپ آرٹسٹ، ہیئر آرٹسٹ،برائیڈل آرٹسٹ ؛یہ کورسیز بھی متعارف کروائے جاسکتے تھے، تاہم یہ کورسیز کارپوریٹ کلچر کا حصہ ہیں سیکھا جاسکتا ہے، لیکن خواتین میں میک اپ کا بڑھتا رجحان تعمیری کام سے روکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

لینے والے ہاتھ سے بہتر دینے والا ہاتھ ہے

خان مبشرہ فردوس  اورنگ آباد مہارشٹر  کمزوروں کی مدد کرنا بہت اچھی بات ہے راشن کٹ,  یا پیسے دیں  یا قرض دے کر  امداد دینے کا جذبہ تو کھل کر آیا اس لاک ڈاون میں  رپورٹ بھی بہترین رہی ہے ۔ تاہم اس پر بھی غور کریں کہ امت کو لینے والی کیفیت سے کیسے نکالیں ۔۔۔امداد لینے کی کیفیت  میں کسی کو رکھنا اچھی بات نہیں ۔ کوئی ٹھوس پروگرام ہو کہ وہ بیوہ عورتیں غریب مسکین گھرانے بے روز گار افراد کس طرح خود کفیل ہوسکیں اور ھمدردی اور مدد لینے کی کیفیت سے نکل آئیں ۔  تاکہ ان کی خودداری باقی رہے ۔۔۔ کیونکہ جب  ان کے  بچے  والدین کو امداد لیتے دیکھیں گے تو بعید نہیں مداد لینے کی قباحت ان کے دل سے جاتی رہے گی ۔ ہمارے امداد  تقسیم کے نظام میں چھپ کر دینے کے بجائے ٹیگ کرکے امداد دینے اور نام و نمود  کا پہلو  غالب رہتا یا غیر محسوس طریقے سے دیں بھی تو  پوری فیمیلی بشمول بچوں کے سامنے رہتا ہے یہ پہلو  یا تو ان کے نسلوں سے اسکی قباحت ختم کردے گا یا, ,  یہ احساس بچے کی  خوداری پر ضرب لگائے  گا اور انہیں  متنفر بنادے...
  ہم پہ دروازے کھلیں گے دانش و ادراک کے۔۔! رڈاکٹر  خان مبشرہ فردوس رات کی سیاہی جب زمانے پر چھا جاتی ہے تو ہر آنکھ دیکھ اور سمجھ سکتی ہے لیکن جہل کی تاریکی، زمانے پر اور معاشرے پر چھائی ہو تو وہی آنکھ دیکھ سکتی ہے جو قران مجید کو تدبر کا موضوع بناتی ہے ۔اس وقت مسلمانوں پر ہونے والی یلغار چاہے اندرونی ہو یا بیرونی اھل ایمان کی قران سے دوری کی جانب اشارہ کررہی ہے ۔ یہ ہمارا ایمان ہے کہ قران مجید کسی مخصوص گروہ یا قوم کے لیے نہیں بلکہ کرہ ارض پر موجود ہر فرد کے لیے یہ دستور سازگار ہوگا کیونکہ یہ خالق کائنات کا نظام ہے اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے جو اس کو سمجھ لے وہ لازما اس بات کا دل میں اقرار کرے کہ یہ کلام اللہ کی تاثیر ہے ۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اس پیغام کو عام کریں اور اس طرح کریں کہ دعوت کے بغیر بھی لوگ عمل سے کہیں کہ یہی وہ نظام ہے جس میں انسانوں کے لیے فلاح ہے۔ ہمارے اسلاف کا کردار قران کے سانچے میں ڈھلا ہوا وہ شفاف کردار تھا کہ دیگر اقوام دیکھ کر ہی کھنچی چلی آتی تھیں۔ لیکن حیف کہ ہماری کمزوری، ہماری کوتاہی، اور قران سے دوری نے ہماری زبان کو مقفل...

ڈرامہ ارطغل غازی سے متعلق ہماری رائے

 خان مبشرہ فردوس  ایڈیٹر افکار نو اورنگ آباد مہاراشٹر   ارطغرل ڈرامے سے متعلق اپنی رائے  ہر انسان کا کسی بھی چیز کو دیکھنے,   سمجھنے اور پیش کرنے کا انداز اسکے فہم اور استعداد فہم۔پر موقوف ہوتا ہے  یقین مانیں ارطغرل کو دیکھنے کے بعد جس قدر خوشی ہوئی اتنا ہی تکلیف اس سے جڑے گروپس میں اس کو سمجھنے والی پوسٹ دیکھ کر ہورہی ہے ۔ بے شمار تبصرے اس ڈرامے پر پڑھے ہیں  مثبت بھی کچھ تھے منفی تو بے شمار ہیں فتوی بھی بے حساب تھے  کسی نے کہا کہ خواتین کا عشق و محبت قابل اعتراض ہے,  کسی نے بے پردگی کو ٹارگیٹ کیا  کسی نے قتل اور سفاکی کو نشانہ بنایا  کسی نے کہا کہ سافٹ بم ہے  کسی اس ڈرامے کے ولن کردار کو موجودہ سیاسی کشاکش سے جوڑنے پر اکتفا کیا  کسی نے کہا ترکی نسل پرستی ریس ازم کا پیغام غالب ہے ۔  کسی نے کہا فکشن نگاری سے مغلوب تاریخ گردانا تو  کسی نے رمضان کے متبرک لمحات میں شیطانی کی کوشش بھی کہا ۔ بھارت میں ہوئے حالیہ احتجاج کو ارطغل ڈرامے کی تحریک کا شاخسانہ بھی کہنے سے بعض نے گریز نہ کیا,  کسی نے روحانی پہلو پر ض...