Skip to main content

 

سائبربولینگ
 ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس
بولنگ، ہراسانی کو کہتے ہیں ۔یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔ہم لوگ اپنے گھروں، محلوں میں اور اسکولوں میں بولینگ ہوتےہوئے دیکھتے آرہے ہیں۔ شریر بچے کمزور اور شرمیلے بچوں کا مذاق اڑایا کرتے ہیں اور تمام بچے ایک ساتھ گروہ بناکر کسی کمزور بچے کو ھدف بناتے ہیں اور قہقہے لگاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ھدف بنایا گیا بچہ ماں کے آنچل میں پناہ لیتا ہے ۔ ایسا بچہ سماجی تعلقات سے گھبراتا ہے، تنہائی پسند بن جاتا ہے ، اور محفل سے کنارہ کرنے لگتا ہے ۔یہ بھی مشاہدہ ہے کہ بچپن کی ہراسانی، بچے کی مکمّل شخصیت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اس طرح بولنگ کی ایک اور شکل یہ بھی ہے کہ راہ چلتی لڑکیوں پر محلے کے شریر لڑکے ٹولی کی بناکر سیٹی بجاتے اور فقرے کَستے اور قہقہے لگاتے ہیں۔ بولنگ کی تیسری شکل کی یہ ہے کہ کلاس روم میں کم سخن اور جسمانی طور کمزور بچے کو ھدف بناکر اس کی کمزوری پر کلاس میں مذاق اڑایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بچہ اسکول سے فرار اختیار کرلیتا ہے ۔ اس کے علاوہ کسی اسٹوڈنٹس کی کوئی کمزوری ہاتھ لگ جائے تو شریر اسٹوڈنٹس ٹولی بناکر اس بچے کو ھدفِ تنقید و تضحیک بناتے ہیں یا بلیک میلنگ کرکے اس بچے سے نازیبا کام کرواتے ہیں ۔ آج انسان ڈیجیٹل دور میں داخل ہوچکا ہے لیکن پھر بھی شرپسند افراد اپنی ہراساں کرنے کی عادت سے باز نہیں آتے۔ڈیجیٹل دور میں الیکٹرانک ڈیوائس یا ڈیجیٹل آلات کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعہ ہراساں کرنے کو” سائبربولنگ“ کہتے ہیں۔ سوشل میڈیا اکاونٹ بند کروانے کے لیے شرارتا، گالیاں دینا، سوشل میڈیا کے کمنٹ بکس میں تضحیک آمیز کمنٹس کرنا،کسی کی کمزوری ہاتھ لگنے پر سکرین شاٹس لے کر گروپ کو ٹیگ کرنا، ٹویٹر ٹرول کے ذریعہ،چیٹ روم اور گیمنگ پلیٹ فارمز پر گندی تصویریں ڈالنا کہ اس کی وجہ سے فریقِ مخالف کو تکلیف اور شرمندگی اٹھانی پڑے، انسٹا گرام پر ہراساں کرنا، سائبر بولنگ میں شامل ہے ۔ اس فعل میں سب سے پہلے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ فریق مخالف کا سوشل میڈیا اکاونٹ بند کروادیا جائے یا اس کا اعتماد ختم ہوجائے، یا اس پر ایک طرح کا نفسیاتی دباؤ بنا رہے ۔ جس سے سوشل میڈیا پراس کی شہرت میں کمی واقع ہو ۔ اکثر متمّول گھرانے کی کم عمر لڑکیوں کے ہاتھ میں الیکٹرانک ڈیوائس موجود ہوتا ہے۔ لیکن وہ اس بات سے بھی ناواقف رہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنانے کی اصل عمر کیا ہے۔اسکول میں، کلاس روم میں ایک دوسرے کی باتوں سے متاثر ہوکر اکاؤنٹ بنا لینا آج کل عام بات ہے ۔جبکہ فیس بک اکاؤنٹ کے لیے عمر کی قید 13 سال اور دیگر ایپلیکیشنز پر اکاونٹس بنانے کی عمر 16سال ہے ۔ لیکن اپنے دوستوں کی گفتگو سے متاثر ہونے کے بعد کم عمر لڑکیاں بھی اکاؤنٹ بنالیتی ہیں اور والدین لاعلم رہتے ہیں ۔ ساتویں جماعت سے دسویں جماعت کی طالبات واٹس ایپ اور انسٹا گرام تک رسائی حاصل کرچکی ہوتی ہیں ۔ایک اسٹڈی کے مطابق اسکول جانے والی طالبات میں، روزانہ تین گھنٹے انٹرنیٹ استعمال کرنے والی طالبات کا تناسب 22.4 فی صد ہے۔ جب کہ4 سے 5 گھنٹے انٹرنیٹ استعمال کرنی والی 13 سے 18 سال عمر کی طالبات 28 فیصد ہیں ۔اسی طرح زیادہ دیر تک انٹرنیٹ استعمال کرنے والی طالبات ہی اکثر سوشل میڈیا پر“ سائبر بولنگ ‘‘ یعنی ڈیجیٹل ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔ بولنگ کی الگ الگ قسموں میں جنسی مواد کے ذریعہ ہراسانی کا تناسب سب سے زیادہ 12 فیصد ہے۔ آن لائن افواہ 20 فی صد ہے۔ کمنٹس کے ذریعہ اور وائرل پوسٹ پر 22 فیصد ہے۔ دیگر ہراسانی کا مواد 45.3 فی صد ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو NCRB کے مطابق دہلی میں 9.2 فیصد لڑکیاں سائبربولنگ کا شکار ہوتی ہیں، جس کا علم نہ ہی ان کے والدین ، سرپرستوں کو اور نہ ہی ٹیچروں کو ہوتا ہے ۔ والدین اسی گمان میں ہوتے ہیں کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں یا کارٹون دیکھ رہے ہیں اور یہ کہ واٹس ایپ پر ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ چیٹ گروپ میں تعلیمی گفتگو کررہے ہیں ۔مسئلہ اس وقت سنجیدہ شکل اختیار کرلیتا ہے جب مخلوط گروپ ہوتو بچے چیٹنگ کے دوران آپس میں تصاویر شئیر کرتے ہوئے اوپن گفتگو کا ماحول بنالیتے ہیں اور پھر آپسی ٹکراؤ پر ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگتے ہیں ۔ دشمنیاں بڑھتی ہیں اور نتیجتاً سائبر بولنگ کی مختلف شکلیں سامنے آتی ہیں ۔ خواتین میں سائبر بولنگ: اسی طرح ایکٹیو خواتین جو ملکی سیاست میں حصہ لیتی ہیں مخالفین کی جانب سے سائبربولنگ کا شکار ہوتی ہیں اور یہی معاملہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ خواتین کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا ہے ۔ ٹیوٹر پر فعّال خواتین کو موفڈ تصاویر ( morphed pictures)اور تضحیک آمیز ٹویٹ کے ذریعہ پریشان کرنے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ذاتی دشمنی کی وجہ سے خواتین کی لاعلمی میں تصاویر لینا اور دوسری غیر شائستہ تصاویر پر چسپاں کرکے اس کو دوستوں میں تشہیر (وائرل) کرنا عام مسئلہ ہے۔ اس طرح کی ہراسانی کا ھدف بننے کے بعد خواتین نفسیاتی طور پر تناؤ کی کیفیت (ڈپریشن) کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس کے باوجود اگر وہ ہمت سے اس پیچیدہ صورتحال سے ابھر آئیں تو یہ تکلیف دہ تجربہ ان کے اعتماد کو متاثر کرجاتا ہے ہر وقت انہیں انجانا خوف لاحق رہتا ہے ۔ سائبر بولنگ کی وجوہات • اسکول کے طلباء کے درمیان تعلیمی مسابقت جب دشمنی کی شکل اختیار کرجائے تو شریر طلباء، ذہین طلباء کو زیر کرنے لیے یہ راہ اپنا لیتے ہیں ۔ • مختلف کیس سٹڈیز کے مطابق نو عمر (ٹین ایج) طلباء اور طالبات کے گرل فرینڈز، بوائے فرینڈز کی رقابت اور دشمنی بھی وجہ بن جاتی ہے ۔ • سوشل میڈیا پر سیاسی نظریات، اور ان کی ترویج و تشہیر کے لیے ایک پارٹی کے فالورز اور دوسری پارٹی کے فالورز کے مابین چلنے والی چپقلش بھی سائبربولنگ کی ایک وجہ ہے۔ • ظالمانہ مزاج ، نشے کا عادی ہونا ، احساس کمتری ، سوشل میڈیا فین فالوونگ بھی سائبر بولنگ کے محرکات ہیں ۔ انٹرنیٹ کی علت پر “آن لائن اسٹڈی اینڈ انٹرنیٹ اڈِکشن اسٹڈی” نامی سروے نے 18 فروری 2019 کو انٹرنیٹ پر اپنی رپورٹ شائع کی ۔ جس کے مطابق چار لڑکیوں میں سے ایک نو عمر لڑکی ہراساں کی جاتی ہے۔ موفڈ ویڈیوز( morphed videos )کے ذریعہ ہونے والی ہراسانی کے 55 فیصد کیس درج بھی نہیں ہوپاتے ہی۔ موفڈ ویڈیوز morphed videos کیا ہیں خواتین یا لڑکیوں کی تصاویر سے صرف ان کا چہرہ استعمال کرتے ہوئے فوٹو شاپ کے ذریعہ کسی برہنہ اور نازیبا تصویر پر اس مہارت سے چسپاں کر دینا کہ دیکھنے والے کو اصل تصویر معلوم ہو۔ اس طرح کی ویڈیوز بناکر بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔ سخت محنت سے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایڈمیشن حاصل کرنے والی بے شمار لڑکیاں اس طرح کی ہراسانی کا شکار ہوکر اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں ۔کیوں کہ سائبر بولنگ سے گزرنے کے بعد وہ اپناحوصلہ کھودیتی ہیں ۔ستم یہ کہ وہ گھر میں کسی سے اس کا ذکر نہیں کرپاتی ہیں کیونکہ اپنی تصویر شئیر کرنے کی غلطی وہ خود کرچکی ہوتی ہیں یا بیشتر کو یہ احساس رہتا ہے کہ ان کے سرپرست اس واقعہ کے بعد ان کے سوشل میڈیا اکاونٹ بند کروا دیں گے ۔ اسٹوڈنٹ کونسل کے الیکشن میں بھی مخالف گروہ کو سائبر ہراسانی پر اکسایا جاتا ہے یا امتحان میں کامیابی کی دشمنی آگے بڑھ کر سائبر بولنگ شکل اختیار کرلیتی ہے ۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کے مطابق سائبر بولنگ کا تناسب 2017 کے مقابلے 2018 میں 25 فیصد بڑھا ہے۔ سائبر بولنگ کی سب سے اھم وجوہات میعار زندگی جس کا تناسب 61 فیصد ہے ۔مسابقتی چپقلش کا تناسب 25 فیصد ہے۔ نسل پرستی کا تناسب 17 فی صد ہے ۔جنسیات کا تناسب 15 فیصد ہے ۔معاشی بالادستی کا تناسب 15 فی صد ہے سائبر ایکسپرٹ کَرِنِیکا سِیت کہتی ہیں کہ وہ بیس سال سے ٹرینگ لا انفورسمنٹ ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق“ آن لائن بولنگ کی بڑی وجہ آپسی دشمنی ہے‘‘۔ اس کے علاوہ سائبر اسٹاکنگ ( cyberstalking) یعنی دھمکی آمیز ای میلز بھیجنا، آن لائن جاسوسی، سائبر تعاقب یعنی آن لائن رہنے کے اوقات کے ذریعہ دیگر مصروفیات جیسے سونے جاگنے کی عادتوں کی کھوج کرنے کے واقعات، 2017 میں 542 خواتین و طالبات سے بڑھ کر 36 فیصد ہوگئے ۔2018 میں 739 خواتین اور طالبات پر یہ تناسب 49 فیصد رہا ۔خواتین کے ساتھ ہونے والی ہراسانی اور سائبرز سٹاکنگ کے واقعات پرجو سزا دی جاتی ہے اس میں اضافہ کرتے ہوئے ان واقعات کو روکنے کے بجائے اس میں کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ درج کروائے جانے کے باوجود التوا میں پڑے ہو کیسیس بھی 96 فیصد ہیں ۔ اب تو دھمکی دینے ، بلیک میلنگ کرنے جیسے واقعات معیوب بھی نہیں سمجھے جارہے ہیں ۔ 1) کیس اسٹڈی اِسکرول بلاگ اِن پر اپنے آرٹیکل میں شری رام کالج کی ایک طالبہ نے لکھا کہ “ میں سائبر ہرسانی کا شکار اس وقت بنی تھی جب میں 12 سال کی تھی ۔میرے ایک ہم جماعت نے میری تصاویر اور میری معلومات اکٹھی کرتے ہوئے میرے نام سے جھوٹا فیس بک اکاؤنٹ بنایا ۔ جس کامجھے علم تک نہیں تھا مجھے میرے دوستوں نے بتایا کہ میرے نام کے اکاونٹ سے کیا کچھ کیا جاتا ہے ۔ وہ انتہائی شرمناک حرکات تھیں جسے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔میرے ہم جماعت ساتھیوں نے مجھے برا بھلا کہنا شروع کیا اور میسج کے اسکرین شاٹ بھجوانے لگے۔ میں اس مصیبت سے نکل نہیں پارہی تھی آہستہ آہستہ میں ڈپریشن میں چلی گئی اور میں نے اپنے دوستوں سے ملنا ترک کردیا ۔بلآخر مجھے اپنا اسکول بدلنا پڑا ‘‘۔ سائبر بولنگ کی سب سے بڑی وجہ افواہ ہے ۔ افواہیں پھیلا کر ہراساں کرنا انتہائی سستا اور غیر اخلاقی حربہ ہے۔ 2 ) کیس اسٹڈی دہلی کی ایک لڑکی کو بہت بری طرح فیسبک پر ٹرول کیا گیا۔کیونکہ اس نے حکومت سے متعلق تنقیدی مضمون لکھا تھا۔ اس لڑکی کو بہت بری طرح ٹرول کیا گیا تھا ۔اس نے رپورٹ درج نہیں کروائی، کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ رپورٹ کس طرح درج کروائی جاتی ہے ۔ بعض لڑکیاں یہ جانتی ہی نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ جو ہورہا ہے، یہ بولنگ ہے اور بولنگ کی شکایت سائبر کرائم بیورو ویب سائٹ پر درج کروانی چاہیے ۔ سیاسی دشمنی میں بولنگ کے طریقہء کار (پروسیز) کو باضابطہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ڈیجیٹل دنیا میں جو لوگ ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں، انہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ انہیں جو نفسیاتی طور پر تکلیف پہنچائی گئی ہے وہ جرم ہے ۔ چند روز پہلے کے ایک ٹرول کیس میں زوم میٹ پر جاری کلاس کے دوران ایک طالبہ اسپیکر میوٹ کرنے کے بجائے کیمرہ بند کرلیتی ہے اور کال ریسیو کرتی ہے۔ آن لائن کلاس کے سبھی ساتھی اس لڑکی کی گفتگو جو نہایت ذاتی قسم کی ہوتی ہے سنتے ہیں اور شرارتاً اسے ریکارڈ کرکے وائرل کرتے ہیں۔ اس لڑکی کے ساتھیوں نے فون پر بتایا کہ بدنامی کے خوف سے اس نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے ۔ بنگلورتھنک ٹینک کے“ ڈائریکٹر شاہ ‘‘جو سائبر لاء یونٹ کے کو-فائینڈر ہیں، ان کے مطابق سائبر بولنگ کوئی اتنا آسان لیا جانے والا جرم نہیں ہے یہ کسی انسان کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتا ہے انسان کا مینٹل سائیکلوجیکل ایموشنل بریک ڈاون یعنی ذہنی نفسیاتی اور جذباتی توازن بگڑ بھی سکتا۔ چائیلڈ رائٹس کے ریجنل ڈائریکٹر سوہا مہوترا کے مطابق“اس طرح کی بولنگ وہ لوگ کرتے ہیں جو اقتدار اور طاقت میں رہنا چاہتے ہیں، دوسروں کو پریشان کرنا انہیں تسکین دیتا ہے۔ جسے ہم نفسیات کی زبان ناقص شخصیت Maladjusted personality بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اس طرح کے بیشتر مجرم نشہ کے عادی بھی پائے گئے ہیں‘‘۔ بالمشافہ ملاقات اور سائبر فرینڈ لسٹ دونوں کے فرق کو سمجھنا ہر ایک کے لیے لازم ہے۔ بالمشافہ ملاقات میں آپ کسی اجنبی سے ملیں تو اس اجنبی پر سماج کے سامنے جوابدہی کا احساس رہتا ہے اور وہ آپ سے ایک حد و ادب کے ساتھ ملتا ہے۔ تاہم سائبر رابطوں کے ذریعہ بننے والا دوستوں کا حلقہ، جاننے والوں کا اوراجنبیوں کا، دونوں طرح کا ہوسکتا ہے اور اجنبی کے اکاؤنٹ کے چیٹ باکس میں آپ نہیں جانتے کہ وہ اصل نام والے ہیں یا کوئی اور ہے ۔ سائبر احتیاط • جنبی ریکوسٹ کو ایڈ کرنے یا فالو کرنے پر بیک فالونگ نہ کریں۔ • چیٹ رومس میں چاہے وہ کالج کا گروپ ہو یا ہم مزاج دوستوں کا، اور وہ کسی بھی مقصد سے بنا ہوا ہو وہاں اپنی تصاویر شئیر نہ کریں ۔ • چیٹ رومز میں کھلے ڈلے انداز میں گفتگو سے گریز کرنا بہتر ہے • کوشش کی جائے کہ کبھی بھی جنسی گفتگو نہ ہونے پائے کیونکہ وہاں سے اسکرین شاٹ لے کر ہراسانی کرنے کے کیس زیادہ منظرعام پر آئے ہیں ۔ • کلاس روم میں ہونے والی کسی دشمنی کا ذکر دوسرے سے نہ کریں کیونکہ دشمن کے علاوہ تیسرا شخص نازیبا میسج ، فوٹو شاپ تصاویر، اور ویڈیوز کے ذریعہ آپ کو ہراساں کرکے دشمن پر الزام لگوانے کی کوشش کرسکتا ہے ۔ • مرد وزن کی مخلوط محفلوں میں اپنی ارزانی سے احتیاط ہر فرد کے لیے لازم ہے ۔ • کسی دوسرے کی بولنگ ہورہی ہو تو دباؤ میں آکر شریر گروپ کا حصہ کبھی نہ بنیں۔ اپنی شخصیت کو سائبر کی دنیا میں بھی پروقار بنانا، اپنی کمزوری ظاہر نہ کرنا، اور حق کے لیے آواز بلند کرنے کی ہمت اور جرات کے ساتھ اشرار کو اپنے حد میں رکھنے کے گر زمانے کے ساتھ آنا چاہیے ۔ پرسنل چیٹ بکس سے جس قدر ممکن ہوبچنا بہتر ہے ۔ اگر کبھی کسی فرد کی سائبر بولنگ ہو رہی ہو تو تماشائی بننے کے بجائے گروہ کی شکل میں سائبر رپورٹ کرنا آنا چاہیے ۔ مایوس کن بات یہ ہے کہ انسانی تمدن میں قدم زمانے سے بولنگ چل رہی ہے طاقتور نے ہمیشہ کمزور کو ہراساں کیا ہے ۔ایک زمانہ میں ہراسانی اسکول میں ہوا کرتی تھی اب وہ سائبر انٹرنیٹ ہونے لگی ہے فرق یہ ہے کہ یہ مینٹل اموشنل بولنگ ہے ۔اس کا تماشائی بننا بہتر ہے نہ شکار بننااور نہ ہی ظلم کا ساتھ دینا ٹھیک۔

Comments

Popular posts from this blog

لینے والے ہاتھ سے بہتر دینے والا ہاتھ ہے

خان مبشرہ فردوس  اورنگ آباد مہارشٹر  کمزوروں کی مدد کرنا بہت اچھی بات ہے راشن کٹ,  یا پیسے دیں  یا قرض دے کر  امداد دینے کا جذبہ تو کھل کر آیا اس لاک ڈاون میں  رپورٹ بھی بہترین رہی ہے ۔ تاہم اس پر بھی غور کریں کہ امت کو لینے والی کیفیت سے کیسے نکالیں ۔۔۔امداد لینے کی کیفیت  میں کسی کو رکھنا اچھی بات نہیں ۔ کوئی ٹھوس پروگرام ہو کہ وہ بیوہ عورتیں غریب مسکین گھرانے بے روز گار افراد کس طرح خود کفیل ہوسکیں اور ھمدردی اور مدد لینے کی کیفیت سے نکل آئیں ۔  تاکہ ان کی خودداری باقی رہے ۔۔۔ کیونکہ جب  ان کے  بچے  والدین کو امداد لیتے دیکھیں گے تو بعید نہیں مداد لینے کی قباحت ان کے دل سے جاتی رہے گی ۔ ہمارے امداد  تقسیم کے نظام میں چھپ کر دینے کے بجائے ٹیگ کرکے امداد دینے اور نام و نمود  کا پہلو  غالب رہتا یا غیر محسوس طریقے سے دیں بھی تو  پوری فیمیلی بشمول بچوں کے سامنے رہتا ہے یہ پہلو  یا تو ان کے نسلوں سے اسکی قباحت ختم کردے گا یا, ,  یہ احساس بچے کی  خوداری پر ضرب لگائے  گا اور انہیں  متنفر بنادے...
  ہم پہ دروازے کھلیں گے دانش و ادراک کے۔۔! رڈاکٹر  خان مبشرہ فردوس رات کی سیاہی جب زمانے پر چھا جاتی ہے تو ہر آنکھ دیکھ اور سمجھ سکتی ہے لیکن جہل کی تاریکی، زمانے پر اور معاشرے پر چھائی ہو تو وہی آنکھ دیکھ سکتی ہے جو قران مجید کو تدبر کا موضوع بناتی ہے ۔اس وقت مسلمانوں پر ہونے والی یلغار چاہے اندرونی ہو یا بیرونی اھل ایمان کی قران سے دوری کی جانب اشارہ کررہی ہے ۔ یہ ہمارا ایمان ہے کہ قران مجید کسی مخصوص گروہ یا قوم کے لیے نہیں بلکہ کرہ ارض پر موجود ہر فرد کے لیے یہ دستور سازگار ہوگا کیونکہ یہ خالق کائنات کا نظام ہے اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے جو اس کو سمجھ لے وہ لازما اس بات کا دل میں اقرار کرے کہ یہ کلام اللہ کی تاثیر ہے ۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اس پیغام کو عام کریں اور اس طرح کریں کہ دعوت کے بغیر بھی لوگ عمل سے کہیں کہ یہی وہ نظام ہے جس میں انسانوں کے لیے فلاح ہے۔ ہمارے اسلاف کا کردار قران کے سانچے میں ڈھلا ہوا وہ شفاف کردار تھا کہ دیگر اقوام دیکھ کر ہی کھنچی چلی آتی تھیں۔ لیکن حیف کہ ہماری کمزوری، ہماری کوتاہی، اور قران سے دوری نے ہماری زبان کو مقفل...

ڈرامہ ارطغل غازی سے متعلق ہماری رائے

 خان مبشرہ فردوس  ایڈیٹر افکار نو اورنگ آباد مہاراشٹر   ارطغرل ڈرامے سے متعلق اپنی رائے  ہر انسان کا کسی بھی چیز کو دیکھنے,   سمجھنے اور پیش کرنے کا انداز اسکے فہم اور استعداد فہم۔پر موقوف ہوتا ہے  یقین مانیں ارطغرل کو دیکھنے کے بعد جس قدر خوشی ہوئی اتنا ہی تکلیف اس سے جڑے گروپس میں اس کو سمجھنے والی پوسٹ دیکھ کر ہورہی ہے ۔ بے شمار تبصرے اس ڈرامے پر پڑھے ہیں  مثبت بھی کچھ تھے منفی تو بے شمار ہیں فتوی بھی بے حساب تھے  کسی نے کہا کہ خواتین کا عشق و محبت قابل اعتراض ہے,  کسی نے بے پردگی کو ٹارگیٹ کیا  کسی نے قتل اور سفاکی کو نشانہ بنایا  کسی نے کہا کہ سافٹ بم ہے  کسی اس ڈرامے کے ولن کردار کو موجودہ سیاسی کشاکش سے جوڑنے پر اکتفا کیا  کسی نے کہا ترکی نسل پرستی ریس ازم کا پیغام غالب ہے ۔  کسی نے کہا فکشن نگاری سے مغلوب تاریخ گردانا تو  کسی نے رمضان کے متبرک لمحات میں شیطانی کی کوشش بھی کہا ۔ بھارت میں ہوئے حالیہ احتجاج کو ارطغل ڈرامے کی تحریک کا شاخسانہ بھی کہنے سے بعض نے گریز نہ کیا,  کسی نے روحانی پہلو پر ض...