Skip to main content

 سرد شعلے

ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس

ہر صبح تڑکے ہی جوان مگر ضعیف ماں اطراف کے گھروں میں برتن دھوکر اپنے مالک کے بچوں کا تازہ کھانا بناکر لوٹتی ہے ساتھ اس کے باسی کھانا ہوتا ہے اس بیچاری کو گھروں کا باسی کھانا گرم کرتے وقت اتنی خوشی ہوتی ہے جیسے ہفت اقلیم کی سلطنت اس نے حاصل کرلی ہو اس کے چہرے کی آسودگی دیدنی ہوتی ہے‌۔
اور اس کی انکھوں کی چمک کا سحر مجھ کو ایسا جکڑ لیتا کہ کھانے کے خراب ہونے کی بو تک کا احساس نہ رہتا اور میں کھا لیتا، بیٹا ہوں نا یہ کھانا پہلے مجھ کو ملتا ہے پھر بچ رہا تو میری بہن کو ۔
نعمتوں کا نہ ملنا تکلیف دہ بالکل نہیں لیکن نعمتیں ہاتھ میں ہو کر بھی دسترس سے باہر ہونے کا عذاب،آہ کہ نہ پوچھ۔
اسی طرح ہر روز جب بھی شام کا ملگجا اندھیرا چھا جاتا ہے میری بھوک ہوٹل کے بننے والے کھانوں کی خوشبو سے سر اٹھاتی ہے کھانے دیکھ کر اشتہا بڑھتی ہے۔اور میں اپنے منہ میں آئے پانی کے گھونٹ پی پی کر ہوٹل میں آنے والوں کو اشتہا انگیز کھانے کھلاتا رہتا ہوں۔کئی مرتبہ میری نگاہ ہاتھ میں پکڑ کر لے جاتی ہوئی پلیٹ پر ایک آزمائش بن کر اٹک جاتی ہے اور میں جبلت کو ضرورت اور مجبوری کی زنجیر سے باندھتے ہوئے سنسناتے دماغ کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتا ہوں۔
جبلت چاہے اپنائیت محبت کی بھوک کی ہو یا کھانے کی۔بھوک جب سر پر سوار ہوتی ہے تو بندہ اس کے سحر میں جکڑ کر اندرونی محرومی کے احساس سے ادھ موا ہوجاتاہے اور دیکھنے والوں کو غائب دماغ نظر آتا ہے۔
کیونکہ میں خود سے چھوٹی غائب دماغ بہن کو بھی تو جانتا ہوں جو ویران آنکھوں میں ماں اور باپ سے، میرے مقابلے میں کم محبت ملنے پر محبت کے حصول کے لئے ایسے ہی حسرت سے دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھوں کی چمک ماند پڑ چکی ہے۔
اب تو غائب دماغی سے ہوٹل میں آئے لوگوں کی جھڑکیاں سننا میرا معمول بن چکا ہے۔جبلت کی خاص بات یہ ہے کہ جب سر اٹھائے اسی وقت اس آگ کو نہ بجھایا جائے تو جبلت کے دہکتے شعلے بجھی ہوئی آگ کی طرح بس راکھ کا سرد ڈھیر بن چکے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی سب سے آخر میں ہوٹل کا مالک بچا ہوا کھانا مجھ کو بھی دیتا ہے اور میں بے دلی سے لے جاکر اپنی ماں اور بہن اور معذور باپ کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے لاکر ڈھیر کردیتا ہوں۔
میری بھوک تو کب کی راکھ بن چکی ہوتی ہے۔بھوک کو روز راکھ بناتے بناتے میری زندگی بھی سرد تھپیڑوں سے ٹھٹھر ہی تو چکی ہے۔
پہروں سوچتا ہوں کہ اس دنیا میں انسان کے علاوہ ایک ایسی مخلوق بھی کاش بستی،جس کو سب کی خدمت کے ساتھ اپنی ذات خواہش جبلت ضرورت، تمنا ،امید کا احساس ہی نہ ہوتا تو کیا ہی اچھا ہوتا کیونکہ ان سب کے ساتھ جیتے ہوئے، روز مرنے اور روز جینے کا درد کون جان سکتا ہے میرے سوا۔

Comments

Popular posts from this blog

لینے والے ہاتھ سے بہتر دینے والا ہاتھ ہے

خان مبشرہ فردوس  اورنگ آباد مہارشٹر  کمزوروں کی مدد کرنا بہت اچھی بات ہے راشن کٹ,  یا پیسے دیں  یا قرض دے کر  امداد دینے کا جذبہ تو کھل کر آیا اس لاک ڈاون میں  رپورٹ بھی بہترین رہی ہے ۔ تاہم اس پر بھی غور کریں کہ امت کو لینے والی کیفیت سے کیسے نکالیں ۔۔۔امداد لینے کی کیفیت  میں کسی کو رکھنا اچھی بات نہیں ۔ کوئی ٹھوس پروگرام ہو کہ وہ بیوہ عورتیں غریب مسکین گھرانے بے روز گار افراد کس طرح خود کفیل ہوسکیں اور ھمدردی اور مدد لینے کی کیفیت سے نکل آئیں ۔  تاکہ ان کی خودداری باقی رہے ۔۔۔ کیونکہ جب  ان کے  بچے  والدین کو امداد لیتے دیکھیں گے تو بعید نہیں مداد لینے کی قباحت ان کے دل سے جاتی رہے گی ۔ ہمارے امداد  تقسیم کے نظام میں چھپ کر دینے کے بجائے ٹیگ کرکے امداد دینے اور نام و نمود  کا پہلو  غالب رہتا یا غیر محسوس طریقے سے دیں بھی تو  پوری فیمیلی بشمول بچوں کے سامنے رہتا ہے یہ پہلو  یا تو ان کے نسلوں سے اسکی قباحت ختم کردے گا یا, ,  یہ احساس بچے کی  خوداری پر ضرب لگائے  گا اور انہیں  متنفر بنادے...
  ہم پہ دروازے کھلیں گے دانش و ادراک کے۔۔! رڈاکٹر  خان مبشرہ فردوس رات کی سیاہی جب زمانے پر چھا جاتی ہے تو ہر آنکھ دیکھ اور سمجھ سکتی ہے لیکن جہل کی تاریکی، زمانے پر اور معاشرے پر چھائی ہو تو وہی آنکھ دیکھ سکتی ہے جو قران مجید کو تدبر کا موضوع بناتی ہے ۔اس وقت مسلمانوں پر ہونے والی یلغار چاہے اندرونی ہو یا بیرونی اھل ایمان کی قران سے دوری کی جانب اشارہ کررہی ہے ۔ یہ ہمارا ایمان ہے کہ قران مجید کسی مخصوص گروہ یا قوم کے لیے نہیں بلکہ کرہ ارض پر موجود ہر فرد کے لیے یہ دستور سازگار ہوگا کیونکہ یہ خالق کائنات کا نظام ہے اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے جو اس کو سمجھ لے وہ لازما اس بات کا دل میں اقرار کرے کہ یہ کلام اللہ کی تاثیر ہے ۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اس پیغام کو عام کریں اور اس طرح کریں کہ دعوت کے بغیر بھی لوگ عمل سے کہیں کہ یہی وہ نظام ہے جس میں انسانوں کے لیے فلاح ہے۔ ہمارے اسلاف کا کردار قران کے سانچے میں ڈھلا ہوا وہ شفاف کردار تھا کہ دیگر اقوام دیکھ کر ہی کھنچی چلی آتی تھیں۔ لیکن حیف کہ ہماری کمزوری، ہماری کوتاہی، اور قران سے دوری نے ہماری زبان کو مقفل...

ڈرامہ ارطغل غازی سے متعلق ہماری رائے

 خان مبشرہ فردوس  ایڈیٹر افکار نو اورنگ آباد مہاراشٹر   ارطغرل ڈرامے سے متعلق اپنی رائے  ہر انسان کا کسی بھی چیز کو دیکھنے,   سمجھنے اور پیش کرنے کا انداز اسکے فہم اور استعداد فہم۔پر موقوف ہوتا ہے  یقین مانیں ارطغرل کو دیکھنے کے بعد جس قدر خوشی ہوئی اتنا ہی تکلیف اس سے جڑے گروپس میں اس کو سمجھنے والی پوسٹ دیکھ کر ہورہی ہے ۔ بے شمار تبصرے اس ڈرامے پر پڑھے ہیں  مثبت بھی کچھ تھے منفی تو بے شمار ہیں فتوی بھی بے حساب تھے  کسی نے کہا کہ خواتین کا عشق و محبت قابل اعتراض ہے,  کسی نے بے پردگی کو ٹارگیٹ کیا  کسی نے قتل اور سفاکی کو نشانہ بنایا  کسی نے کہا کہ سافٹ بم ہے  کسی اس ڈرامے کے ولن کردار کو موجودہ سیاسی کشاکش سے جوڑنے پر اکتفا کیا  کسی نے کہا ترکی نسل پرستی ریس ازم کا پیغام غالب ہے ۔  کسی نے کہا فکشن نگاری سے مغلوب تاریخ گردانا تو  کسی نے رمضان کے متبرک لمحات میں شیطانی کی کوشش بھی کہا ۔ بھارت میں ہوئے حالیہ احتجاج کو ارطغل ڈرامے کی تحریک کا شاخسانہ بھی کہنے سے بعض نے گریز نہ کیا,  کسی نے روحانی پہلو پر ض...