ذہنی دباؤ

بعض نفسیاتی مسائل بہت چھوٹے ہیں لیکن اس کے شخصیت پر اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ انسان الجھا رہتا ہے کہ کیا انہونی اس کے ساتھ واقع ہورہی ہے ۔ بعض کو تو مشورے میں یہ سمجھادیا جاتا ہے کہ کسی آسیب یا جن کا سایہ ہے اور انسان انتہائی نامعقول علاج میں اپنا وقت صرف کرتا ہے اسی طرح کا، ایک سوال ایک بہن نے پوچھا کہ
” اکثر لگتا کہ مجھے کوئی دیکھ رہا ہے یا میرے پاس کھڑا ہے ۔پانی پینے اکیلے جاؤں تو لگتا ہے کوئی آوازیں دے رہا ہے۔ ایک دو دن پہلے میں کچن میں تھی فریج سے بوتل نکالی تو ایسا لگا کہ کوئی بالکل ساتھ کھڑا ہے۔ مڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا اور ایسا بارہا ہو چکا آپ مجھے بتائیں کہ یہ نفسیاتی مسئلہ ہے یا مجھ پر کوئی جن کا سایہ ہے؟
پہلی بات یہ جن کا سایہ نہیں ہے ۔انسانی نفسیات ہی کا مسئلہ ہے اور بہت سنگین مسئلہ نہیں ہے۔
اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھ لیں اور یہ کہ ایسا کس وجہ سے ہوتا ہے اور آپ کس طرح قابو پاسکتی ہیں۔
اطمینان رکھیں آپ اکیلی نہیں ہیں بلکہ لاکھوں افراد کو یہ مسٔلہ ہوتا ہے اور اسے نفسیات کی زبان میں perceptive distortions ( تصوراتی بگاڑ )کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات انسانی حواس ایکسٹرا سینسیٹو(extra sensitive) ہو جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے صورتحال کو غلط ریڈ کرتے ہیں۔(Anxiety) انگزائٹی،ذہنی دباؤ، مرگی، ہسٹریا ڈیپریشن، تنہائی، صدمے اور خوف کے مسائل کی وجہ سے بھی حواس میں حساسیت پیدا ہو سکتی ہے۔
علم نفسیات کی رو سے چار اہم وجوہات ہیں۔
روایتی ماحول: مثلا ایک شخص اپنا ماحول اچانک بدل لیتا ہے جیسے شادی سے پہلے زیادہ ممبران کے ساتھ رہنے کی عادت تھی شادی کے بعد بہت بڑے گھر میں صرف دو افراد رہتے ہوں۔
اس شخص کے لاشعور میں زیادہ افراد کا شور اور آمدورفت نے جگہ بنالی ہے تو تنہائی کے ماحول کی تبدیلی کے بعد اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی آس پاس ہے دراصل وہ اس کا ذہن ماحول کی تبدیلی کو قبول نہيں کرسکا ۔
Comments
Post a Comment