فنون لطیفہ اور خواتین ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس خواتین کی معاشی سرگرمیوں سے متعلق ہم بات کرچکے ہیں ۔بلاشبہ اللہ رب العالمین نے ہر فرد کو مختلف اور ان گنت صلاحیتوں کے ساتھ دنیا میں بھیجا، ہر فرد اپنے آپ میں اس نظام کائنات کا قیمتی اثاثہ ہے ۔خواتین کی خوابیدہ صلاحیتوں کے جوہر ان کے گھر کے انتظامی امور اور خاندان کی تنظیم سے واضح ہوتے ہیں، تاہم بدلتے زمانے کے ساتھ پر تعیش زندگی نے خواتین کو کئی ایک پرمشقت کاموں سے بری کردیا ہے، بہت سہولت کے ساتھ وہ اہم ترین کام انجام دیتی ہیں ۔ بچوں کی تربیت کی ذمہ داری پہلے صرف خاندانوں میں ہوا کرتی تھی، لیکن اب اسکولی نظام ہے، جہاں بچے اپنے دن کا بڑا وقت گزار لیتے ہیں ۔بدلے میں خواتین کے پاس بچوں کے بچپن کی نگہداشت کے بعد جوں ہی اسکول جانے لگتے ہیں، فارغ وقت بچتا ہے ۔ اس وقت کو کارآمد بنانے کے لیےتعمیری کام وقت کا اہم تقاضا ہے ۔ جہاں تجارتی معاملات میں اپنی صلاحیتوں کوبروئے کار لاتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے ،وہیں کچھ بہنیں تجارت کا مزاج نہیں رکھتیں، وہ علمی امورو فنون لطیفہ اور تصنیف و تالیف کے کام میں اپنے وقت لگانا چاہتی ہیں، انہیں چاہیے ک...
خواتین کا معاشی استحکام ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس کائنات کی مادی دولت پر اللہ رب العالمین نے انسان کو تصرف کی آزادی بخشی ہے ۔جو دولت انسان اپنی محنت سے کمائے، اسے حلال کمائی کہتے ہیں۔کمانے کے مختلف طریقے ہیں، اوراس کی آزادی ہر دو مرد وعورت کو حاصل ہے ۔اگرچہ اللہ رب العالمین نے گھر کی معاشی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے،عورت کو ذمہ دار نہیں بنایا ،تاہم وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے، اپنے بچوں کی دیگر ضروریات کی تکمیل کے لیے نیز انفاق فی سبیل اللہ کے مقصد سے کمانے کی پوری آزادی رکھتی ہے ۔ معاش، حیات انسانی کاوہ اہم ترین شعبہ ہے کہ عمر عزیز کا بیشتر حصہ غم فردا میں گزرتا ہے۔ صبح سے شام اور شام سے صبح ایک ہی فکر انسان کو گھائل کیے رکھتی ہے کہ اسے بہر صورت ضروریات زندگی کےحصول کویقینی بنانا ہے ۔ عارضی معاش کی صورت میں ایک نادیدہ سا خوف ، سائے کے مانند انسان کے ساتھ ساتھ رہتا ہے اور مستقل معاش کی تگ و دو کے لیے ایک محرک کا کر دار ادا کر تا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام نے اس فطرت انسانی کا خاص خیال رکھا ہے اور جابجا حصول معاش کی دوڑ دھوپ کا حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فإذا قضيت ...