Skip to main content

 آہ… قافلے لٹ گئے.!

ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس

”قافلے بنتے ہیں، قافلے بکھرتے ہیں، قافلے لٹ جاتے ہیں“

یہ تین جملے اس نے اپنی ساس کی ڈائری میں پڑھے تھے ۔اکثر وہ سوچا بھی کرتی تھی کہ وہ اتنے اہتمام سے تین جملوں کو کیوں دہراتی ہیں ۔ کیوں وہ اپنے پوتوں اور پوتیوں کو اردو سکھاتے ہوئے جب لکھنا بھی سکھاتی تھیں تو انہی جملوں کا املا کرواتی ہیں ۔ آخر یہ تین جملوں کے پیچھے کی کہانی کیا تھی۔؟ ایک دن اپنے کمرے میں فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد نگہت اپنی ساس کے پاس ہال میں چلی آئی اور انکے قریب دیوان پر بیٹھ گئی۔ ساس کی نماز ختم نہیں ہوئی تھی ۔وہ ابھی قاعدے میں تھیں۔ نگہت نے پاندان کو قریب لیا تاکہ ترتیب درست کرکے پان کی گلوری بناکر خاصدان میں رکھ دے۔تب تک اماں نے سلام پھیر ہی لینا ۔ جوں ہی ساس نے نماز ادا کی، نگہت کو دیکھ کر مسکرادیا۔ جواب میں نگہت نے انہیں سلام کیا۔ ساس کہنے لگیں جاگ گئیں، بہو رانی؟ جی اماں! سوچا آپ کے ساتھ چائے پی لی جائے۔ کیوں نہیں بہو رانی، بنالیں ۔ “ قافلے کے گزرنے کے بعد کا غبار، اب ھم ہی تو بچے ہیں”۔ اماں نے حسبِ معمول وہی جملہ دہرایا ۔ “ اماں میں پہلے چائے لے آؤں، پھر آپ ذرا یہ قافلہ والی بات آج سمجھا ہی دیں ۔۔۔ کل آپ کی ڈائری دیکھی ہے اس میں بھی یہی تین جملے پڑھے تھے” ب۔ آج بتاہی دیں کہ آپ اکثر دہرا کر کیا بتانا چاہتی ہیں۔ ساس نے بڑے ہی پیار سےاپنی مہذب اور طرحدار بہو کو دیکھا، جیسے بے اختیار دلار آیا ہو ۔ اپنے چاربیٹوں اور ان کی بیویوں اور اپنی دو بیٹیوں میں وہ نگہت ہی سے اسلامی روایات کی بقاء کے لئے پُرامید تھیں ۔ کیونکہ شوہر کے انتقال کے بعد جب سے بااختیار ہوئیں تب سے اسی بہو کو مادہ پرستی اور حسن پرستی سے پرے، دینی فکر اسلامی روایات کی پاسداری کو معیاربناکر بیاہ لائیں تھیں۔ کیونکہ دوسری بہوؤں کے انتخاب پر وہ اختیار نہیں رکھتی تھیں۔ اسی لیے وہ اس بہو سے کھل کر بات بھی کرلیا کرتی تھیں ورنہ تربیت میں خاص خیال رکھنے کے باوجود وہ خود کو بکھرے قافلے کا امیر سمجھنے لگی تھیں ۔ جب بھی وہ اپنے بچوں کی دین بیزاری پر کڑھتی، اپنی تربیت میں کمی کھوجتی رہتی تھیں ۔ نگہت چائے لے آئی اور ساس کے پاس پرسکون ہوکر بیٹھ گئی۔ ایسے جیسے دنیا جہاں کی بے فکری ہو اور ھمہ تن گوش ساس کی بات سن کر ہی دم لے گی۔ “بٹیا ھم دس بہن بھائی رہے ہیں ۔بچپن میں ساتھ کھیلتے، ساتھ استاد کی آمد پر تعلیم حاصل کرتے، ساتھ نماز ادا کرتے، سب مل کر ایک دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے۔ میں بچپن میں اکثر سوچا کرتی تھی ھم ایک قافلے جیسے ہیں اور اس وقت کا ماحول بھی کچھ یوں تھا، بٹیا! کہ اتحاد اتفاق کی نصیحت بھی ایک لکڑی آسانی سے توڑ کر اور کئی لکڑیاں نہ توڑنے والی کہانیاں سناکر کی جاتی تھی .کبوتر کے جال لے اڑنے والی کہانیاں سنا کر اتفاق کا درس ملتا تھا اور نماز کی صف بنواکر بنیان المرصوص کا کہ تم ایک سیسہ پلائی دیوار ہو۔صف ٹیڑھی ہوتی تو اماں ڈانٹ دیا کرتیں کہ دلوں میں تفرقہ ہوگا ٹیڑھ نہ رکھو۔ میر کارواں ہمارے والدین تھے جن کی زندگی میں ہر حرکت و عمل کا محور بچوں کی تربیت تھا۔” “پھر ہم سب شادی کے بعد بکھر گئے جیسے کہ قانون فطرت بھی ہے۔ ہم میں سے ہر فرد اپنے الگ قافلے کا میر کارواں ٹہھرا ۔۔۔ میر کارواں کی گرفت کمزور ہوئی ۔ پیادہ رو کارواں، اب تیز رفتار گاڑیوں میں سوار ہوکر دوڑنے لگے۔اگر کبھی سب بہن بھائی اپنے قافلے کے ساتھ موقع بہ موقع جمع ہو بھی جائیں تو مادی اونچ نیچ اور تیری دیوار سے اونچی میری دیوار بنے والی کیفیت ہوتی تھی۔ بہرحال کارواں تب بھی کچھ دیر کے لیے رکتا تھا ، نماز پڑھ کر چند لمحے اتحاد کااحساس دلاتا اور اپنی اپنی راہ پر دوبارہ گامزن ہوجاتا۔ اسی لیے میں کہتی ہوں قافلے بکھر گئے”۔ “ اس کے بعد پھر سے متفرق ہوئی ہماری دوسری نسل کی میر کارواں میں ٹھہری اب قافلہ مختصر تھا اب کوئی کھانے پر بھی جمع نہیں ہوتا تھا ۔کھیل بھی سب اپنے اپنے کھلونوں سے بند کمروں میں کھیلتے، رات دیر گئے تک سب کمروں سے ٹی وی دیکھتے رہنے کی آوازیں میرے کان تک پہنچتی ہے تو میں، آہ بھر کر کہتی ہوں”۔ “ قافلے لٹ گئے ،میر کارواں تنہا آخر کب تک اس لٹے قافلے کے غبار میں چل سکتے ہیں۔۔۔؟” “ یہاں اب صبح صرف آپ اور ہم فجر میں جاگ کر اپنے اپنے روم میں نما ز ادا کرلیتے ہیں تب مجھ کو اس قافلے کے لٹ جانے کا احساس شدت سے ہونے لگتاہے…. آپ کا میرا صبح ایک جگہ جمع ہونا، قافلے کے لٹ جانے بعد کا غبار ہی تو ہے جو اپنے وقت کے ساتھ مٹ جائے گا پھر نام رہے گا نہ نشان باقی رہے گا ۔۔۔کون ہے جو اب وہی بچپن کی طرح قافلے کو جوڑ رکھے گا ۔۔ دوبارہ سےترتیب دے گا؟ ” پھر ایک دن فجر کے بعد نگہت حسب معمول اپنی ساس کے پاس آئی تو وہ میرکارواں اچانک نگہت کوتنہا چھوڑ کر اپنے آخری سفر پر روانہ چکی تھیں ۔ ساس کی ساکت و جامد سرد لاش کے پاس سارا قافلہ ایک بارگی پھرجمع ہوا۔۔۔سبھی کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ تب ہی لوہا گرم دیکھ کرضرب لگانے کے مصداق نگہت نے ان کی ڈائری سے بیٹوں اور بیٹیوں کو ان کی حسرتیں پڑھکر سنائیں کہ وہ اپنے اولاد کی نمازوں کی لاپرواہی، مادہ پرستی اور دین بیزاری سے کتنی تکلیف میں تھیں۔ سب نے چپکے چپکے دل میں عہد کیا۔ ملال سب کے چہروں پر عیاں تھا۔ جیسے اپنی ماں کے خواب کو تعبیر بخشنا چاہتے ہوں ۔۔اور نگہت خلامیں دور گہری نظر سے دیکھ رہی تھی جیسے ساس سے کہہ رہی ہو۔۔ آپ اپنے قافلے سے مایوس نہ ہوں میں سنبھال لوں گی ۔۔۔ اور دور کہیں آسمانوں پر اپنے بہو کے انتخابی معیار پر ساس بھی جیسے نازاں ہو ۔ شوہر کے انتقال کے بعد جب سے بااختیار ہوئیں تب سے اسی بہو کو مادہ پرستی اور حسن پرستی سے پرے، دینی فکر اسلامی روایات کی پاسداری کو معیاربناکر بیاہ لائیں تھیں۔ کیونکہ دوسری بہوؤں کے انتخاب پر وہ اختیار نہیں رکھتی تھیں۔ اسی لیے وہ اس بہو سے کھل کر بات بھی کرلیا کرتی تھیں ورنہ تربیت میں خاص خیال رکھنے کے باوجود وہ خود کو بکھرے قافلے کا امیر سمجھنے لگی تھیں

Comments

Popular posts from this blog

لینے والے ہاتھ سے بہتر دینے والا ہاتھ ہے

خان مبشرہ فردوس  اورنگ آباد مہارشٹر  کمزوروں کی مدد کرنا بہت اچھی بات ہے راشن کٹ,  یا پیسے دیں  یا قرض دے کر  امداد دینے کا جذبہ تو کھل کر آیا اس لاک ڈاون میں  رپورٹ بھی بہترین رہی ہے ۔ تاہم اس پر بھی غور کریں کہ امت کو لینے والی کیفیت سے کیسے نکالیں ۔۔۔امداد لینے کی کیفیت  میں کسی کو رکھنا اچھی بات نہیں ۔ کوئی ٹھوس پروگرام ہو کہ وہ بیوہ عورتیں غریب مسکین گھرانے بے روز گار افراد کس طرح خود کفیل ہوسکیں اور ھمدردی اور مدد لینے کی کیفیت سے نکل آئیں ۔  تاکہ ان کی خودداری باقی رہے ۔۔۔ کیونکہ جب  ان کے  بچے  والدین کو امداد لیتے دیکھیں گے تو بعید نہیں مداد لینے کی قباحت ان کے دل سے جاتی رہے گی ۔ ہمارے امداد  تقسیم کے نظام میں چھپ کر دینے کے بجائے ٹیگ کرکے امداد دینے اور نام و نمود  کا پہلو  غالب رہتا یا غیر محسوس طریقے سے دیں بھی تو  پوری فیمیلی بشمول بچوں کے سامنے رہتا ہے یہ پہلو  یا تو ان کے نسلوں سے اسکی قباحت ختم کردے گا یا, ,  یہ احساس بچے کی  خوداری پر ضرب لگائے  گا اور انہیں  متنفر بنادے...
  ہم پہ دروازے کھلیں گے دانش و ادراک کے۔۔! رڈاکٹر  خان مبشرہ فردوس رات کی سیاہی جب زمانے پر چھا جاتی ہے تو ہر آنکھ دیکھ اور سمجھ سکتی ہے لیکن جہل کی تاریکی، زمانے پر اور معاشرے پر چھائی ہو تو وہی آنکھ دیکھ سکتی ہے جو قران مجید کو تدبر کا موضوع بناتی ہے ۔اس وقت مسلمانوں پر ہونے والی یلغار چاہے اندرونی ہو یا بیرونی اھل ایمان کی قران سے دوری کی جانب اشارہ کررہی ہے ۔ یہ ہمارا ایمان ہے کہ قران مجید کسی مخصوص گروہ یا قوم کے لیے نہیں بلکہ کرہ ارض پر موجود ہر فرد کے لیے یہ دستور سازگار ہوگا کیونکہ یہ خالق کائنات کا نظام ہے اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے جو اس کو سمجھ لے وہ لازما اس بات کا دل میں اقرار کرے کہ یہ کلام اللہ کی تاثیر ہے ۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اس پیغام کو عام کریں اور اس طرح کریں کہ دعوت کے بغیر بھی لوگ عمل سے کہیں کہ یہی وہ نظام ہے جس میں انسانوں کے لیے فلاح ہے۔ ہمارے اسلاف کا کردار قران کے سانچے میں ڈھلا ہوا وہ شفاف کردار تھا کہ دیگر اقوام دیکھ کر ہی کھنچی چلی آتی تھیں۔ لیکن حیف کہ ہماری کمزوری، ہماری کوتاہی، اور قران سے دوری نے ہماری زبان کو مقفل...

ڈرامہ ارطغل غازی سے متعلق ہماری رائے

 خان مبشرہ فردوس  ایڈیٹر افکار نو اورنگ آباد مہاراشٹر   ارطغرل ڈرامے سے متعلق اپنی رائے  ہر انسان کا کسی بھی چیز کو دیکھنے,   سمجھنے اور پیش کرنے کا انداز اسکے فہم اور استعداد فہم۔پر موقوف ہوتا ہے  یقین مانیں ارطغرل کو دیکھنے کے بعد جس قدر خوشی ہوئی اتنا ہی تکلیف اس سے جڑے گروپس میں اس کو سمجھنے والی پوسٹ دیکھ کر ہورہی ہے ۔ بے شمار تبصرے اس ڈرامے پر پڑھے ہیں  مثبت بھی کچھ تھے منفی تو بے شمار ہیں فتوی بھی بے حساب تھے  کسی نے کہا کہ خواتین کا عشق و محبت قابل اعتراض ہے,  کسی نے بے پردگی کو ٹارگیٹ کیا  کسی نے قتل اور سفاکی کو نشانہ بنایا  کسی نے کہا کہ سافٹ بم ہے  کسی اس ڈرامے کے ولن کردار کو موجودہ سیاسی کشاکش سے جوڑنے پر اکتفا کیا  کسی نے کہا ترکی نسل پرستی ریس ازم کا پیغام غالب ہے ۔  کسی نے کہا فکشن نگاری سے مغلوب تاریخ گردانا تو  کسی نے رمضان کے متبرک لمحات میں شیطانی کی کوشش بھی کہا ۔ بھارت میں ہوئے حالیہ احتجاج کو ارطغل ڈرامے کی تحریک کا شاخسانہ بھی کہنے سے بعض نے گریز نہ کیا,  کسی نے روحانی پہلو پر ض...