Skip to main content

 ہلاکت خیز دور میں باضمیر انسانوں کا کردار

ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس
  قارئین ماہِ رمضان کی بابرکت ساعتوں کو گزارتے ہوئے مشغولِ عبادت ہوں گے موجود حالات میں ہر لب پر دعا ہے کہ کرونا وبا کی اس آزمائش کو اللہ رب العالمین ختم فرمادے۔

وبا کا زور عروج پر ہے اِدھر کسی کی ناسازئ طبع کی خبر ملی اُدھر اوسان خطا ہوئے حالت یہ ہے کہ کسی کی صحت یابی کی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھے ہی تھے کہ اناللہ وانا الیہ راجعون کی نوبت آن پہنچی۔
ہر فرد اس احساس سے گھرا ہوا ہے کہ نہ جانے کونسا لمحہ خود اسے بھی ایک خبر بنادے۔ پورے عالم میں انسانیت کرونا وبا کے سبب بالخصوص ان دنوں ھندوستان میں سخت ترین آزمائش سے گزر رہی ہے۔ اموات کی خبریں ہیں کہ آئی جارہی ہیں کچھ عزیزی، کچھ قریبی، کچھ شناسا، کچھ دور افتادہ نہ تھمنے والا سلسلۂ اموات ہے جو جاری ہے دل کی حالت مرزا غالب کے اس مصرع کے مصداق کہ

’’دلِ افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا‘‘
جو مراقبہ کرلے احتیاط کا دامن تھامے رکھے پس اسی کے لیے امان ہے۔
ایسے حالات میں اہل ایمان کی ذمہ داریاں دو چند ہوجاتی ہیں۔
کسی گھرانے کو اموات سے آزمایا جاتا تو کسی کی صحت و فراوانی سے آزمائش کی جاتی ہے۔
جنہیں اللہ نے امان عطا کیا انہیں سماجی مسائل کے حل پر متوجہ رہنا چاہیے تاکہ ہم ایک سپورٹ سسٹم امداد باہمی کا نظام آپس میں قائم کرسکیں۔
حالات کے لحاظ سے ترجیحات کی تبدیلی کا حوالہ ہمیں قران مجید سورہ النساء میں آیت نمبر دو، اور تین میں ملتا ہے جہاں یتیم کے احکامات شروع ہوتے ہیں اس کے پس منظر میں یہ بات مفسرین نے بیان کی ہے کہ جنگِ احد میں ستر صحابہ شہید ہوگئے تھے اور اس وقت کئی بچے یتیم اور خواتین بیوہ ہوئی تھیں مدینہ میں مسلمانوں کے درمیان نئے مسائل نے سر اٹھایا اور یتیم کے احکامات نازل ہوئے تھے۔
اس سے پتہ چلتاہے کہ حالات کی تبدیلی کے لحاظ سے ہماری ترجیحات بھی بدلنی چاہیے۔ہم ان احکامات کو پڑھیں تاکہ بہتر طریقے سے اپنے عمل کا تعین کرسکیں۔
لائحہ عمل :
پہلا کام یہ کہ ہم مشاہدہ اور ایک ہلکے پھلکے سروے کی بنیاد پر مسائل کی فہرست بنائیں اپنے اطراف میں جان پہچان والوں میں کتنے لوگ ہیں جن کی ملازمتیں لاک ڈاون کی وجہ سے جاتی رہی ہیں بے روزگاری بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے اور متمول گھرانے کی تجارت کے ختم ہونے کی وجہ سے سفید پوشی کا بھرم نبھانے کی کوشش میں‌ بعض خواتین نے اپنے حالات سے نکلنے کے لیے چھوٹے چھوٹے تجارتی محاذ کھول رکھے ہیں جیسے گھر میں تیار شدہ مصالحہ جات، کپڑوں کی تجارت، یا گھریلو اشیاء وغیرہ کا بزنس شروع کیا ہے اس کی فہرست بنالیں اور بڑی کمپنیوں کے برانڈز پر اشیاء آن لائن خریدنے سے زیادہ اپنے اطراف کے لوگوں ہی سے خرید وفروخت کریں ترجیحی بنیاد پر بطور تعاون آپ کا ہمارا یہ عمل اللہ کے دفتر میں محفوظ رہے گا مزید براں یہ ہماری اولاد کی تربیت کا حصہ بھی بنے گا۔
ہمیں ان حالات میں رحم دلی، امدادِ باہمی سپورٹ سسٹم کے ذریعہ دل جوئی کا رویہ اپنانا ہوگا۔
دوسرا کام آپ اپنے قریب کے محلے رشتہ دار، اجتماعات میں آنے والی خواتین اور ملاقاتیوں کے درمیان یتیم ہونے بچوں کی فہرست بنالیں، اپنے جاننے والوں میں کتنے بچے یتیم ہوئے۔
ہم نے ایک اندازے کے مطابق جانا کہ ہمارے اپنے جاننے والوں میں اب تک انیس گھرانے ہیں جہاں بہت چھوٹے بچے کے والد کرونا وبا میں داعیٔ اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں دوسری لہر نے بوڑھے بچے جوان سبھی کو جکڑلیا ہے۔
ہر خاتون کے مشاہدے میں بہت سے دیگر گھرانے ہوں گے وہاں عید کے موقع پر ان کی دل جوئی کرنا،ان کے گھر کے افراد کو ھمت دلانا، ان پر دستِ شفقت رکھنا اور ان کی ضروریات کے لیے متوجہ رہنا کہ آیا ان کے رشتے دار ان سے نظریں تو نہیں چرا رہے ہیں انہیں احساس دلانا انہیں متوجہ کرنا،ان بچوں کی تعلیم سے متعلق آگاہ رہنا۔ان کے وراثتی معاملے پر متوجہ رہنا اور متوجہ رکھنے کے لیے قران کے موضوعات کو زیرِ بحث لانا ہماری کوشش ہو۔
تیسرا کام کچھ گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں معاشی ذریعہ مطلق ختم ہوجانے پر میاں بیوی کے درمیان کی چپقلش نفسیاتی شدید الجھن میں تبدیل ہوگئی۔
کئی لوگ فون کالز پر یا واٹس ایپ پر آپ سے شوہر کی ترشی سخت مزاجی کی شکایت کریں تو ان کی کاونسلنگ صبر کی تلقین سے ہم مدد کرسکتے ہیں ۔ان کے درمیان صلح کروانے کی نئی تدابیر تلاش کرسکتے ہیں۔ لاک ڈاون اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے بعض خاندانوں میں تنازعات پیدا کیے ہیں یہاں صلاح کاری سے مدد کی جاسکتی ہے۔
چوتھا کام یہ کہ اپنے اخراجات کو کم کریں غیر ضروری خرچ اور پرتعیش چیزوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے گھر کے مرد حضرات کو امداد پر اکسائیں۔مریضوں کے لیے آکسیجن سلینڈر، ہاسپٹلز کے لیے کام کرنے والا گروہ اور تنظیمیں ہر ایک کے محلے اور شہر میں کام کررہی ہیں ان تک اپنے صدقات خیرات، زکوۃ کو پہنچانا اپنے آپ پر لازم کرلیں ۔
سخت ترین آزمائش سے گزرتے ہوئے بھی مومن کے پاس حرکت و عمل کا مضبوط منصوبہ ہوتا ہے جہاں کچھ لوگ جو اس وبا سے نکلنے کی تدبیر اس کا علاج یا ویکسین ڈھونڈ کر کررہے ہیں ہمیں بساط بھر کوشش انسانوں کے درمیان بلا تفریق مذہب و ملت اپنی مادی ضرورت سے زیادہ انسانی ضروریات ان کے زندہ مسائل کو حل کرنے کی تدبیر ترجیحی بنیاد پر کرنی چاہیے۔
اللہ رب العالمین عالمِ انسانی پر رحم فرمائے اور اس دور ابتلاء سے نجات
عطا فرمائے۔آمین

Comments

Popular posts from this blog

لینے والے ہاتھ سے بہتر دینے والا ہاتھ ہے

خان مبشرہ فردوس  اورنگ آباد مہارشٹر  کمزوروں کی مدد کرنا بہت اچھی بات ہے راشن کٹ,  یا پیسے دیں  یا قرض دے کر  امداد دینے کا جذبہ تو کھل کر آیا اس لاک ڈاون میں  رپورٹ بھی بہترین رہی ہے ۔ تاہم اس پر بھی غور کریں کہ امت کو لینے والی کیفیت سے کیسے نکالیں ۔۔۔امداد لینے کی کیفیت  میں کسی کو رکھنا اچھی بات نہیں ۔ کوئی ٹھوس پروگرام ہو کہ وہ بیوہ عورتیں غریب مسکین گھرانے بے روز گار افراد کس طرح خود کفیل ہوسکیں اور ھمدردی اور مدد لینے کی کیفیت سے نکل آئیں ۔  تاکہ ان کی خودداری باقی رہے ۔۔۔ کیونکہ جب  ان کے  بچے  والدین کو امداد لیتے دیکھیں گے تو بعید نہیں مداد لینے کی قباحت ان کے دل سے جاتی رہے گی ۔ ہمارے امداد  تقسیم کے نظام میں چھپ کر دینے کے بجائے ٹیگ کرکے امداد دینے اور نام و نمود  کا پہلو  غالب رہتا یا غیر محسوس طریقے سے دیں بھی تو  پوری فیمیلی بشمول بچوں کے سامنے رہتا ہے یہ پہلو  یا تو ان کے نسلوں سے اسکی قباحت ختم کردے گا یا, ,  یہ احساس بچے کی  خوداری پر ضرب لگائے  گا اور انہیں  متنفر بنادے...
  ہم پہ دروازے کھلیں گے دانش و ادراک کے۔۔! رڈاکٹر  خان مبشرہ فردوس رات کی سیاہی جب زمانے پر چھا جاتی ہے تو ہر آنکھ دیکھ اور سمجھ سکتی ہے لیکن جہل کی تاریکی، زمانے پر اور معاشرے پر چھائی ہو تو وہی آنکھ دیکھ سکتی ہے جو قران مجید کو تدبر کا موضوع بناتی ہے ۔اس وقت مسلمانوں پر ہونے والی یلغار چاہے اندرونی ہو یا بیرونی اھل ایمان کی قران سے دوری کی جانب اشارہ کررہی ہے ۔ یہ ہمارا ایمان ہے کہ قران مجید کسی مخصوص گروہ یا قوم کے لیے نہیں بلکہ کرہ ارض پر موجود ہر فرد کے لیے یہ دستور سازگار ہوگا کیونکہ یہ خالق کائنات کا نظام ہے اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے جو اس کو سمجھ لے وہ لازما اس بات کا دل میں اقرار کرے کہ یہ کلام اللہ کی تاثیر ہے ۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اس پیغام کو عام کریں اور اس طرح کریں کہ دعوت کے بغیر بھی لوگ عمل سے کہیں کہ یہی وہ نظام ہے جس میں انسانوں کے لیے فلاح ہے۔ ہمارے اسلاف کا کردار قران کے سانچے میں ڈھلا ہوا وہ شفاف کردار تھا کہ دیگر اقوام دیکھ کر ہی کھنچی چلی آتی تھیں۔ لیکن حیف کہ ہماری کمزوری، ہماری کوتاہی، اور قران سے دوری نے ہماری زبان کو مقفل...

ڈرامہ ارطغل غازی سے متعلق ہماری رائے

 خان مبشرہ فردوس  ایڈیٹر افکار نو اورنگ آباد مہاراشٹر   ارطغرل ڈرامے سے متعلق اپنی رائے  ہر انسان کا کسی بھی چیز کو دیکھنے,   سمجھنے اور پیش کرنے کا انداز اسکے فہم اور استعداد فہم۔پر موقوف ہوتا ہے  یقین مانیں ارطغرل کو دیکھنے کے بعد جس قدر خوشی ہوئی اتنا ہی تکلیف اس سے جڑے گروپس میں اس کو سمجھنے والی پوسٹ دیکھ کر ہورہی ہے ۔ بے شمار تبصرے اس ڈرامے پر پڑھے ہیں  مثبت بھی کچھ تھے منفی تو بے شمار ہیں فتوی بھی بے حساب تھے  کسی نے کہا کہ خواتین کا عشق و محبت قابل اعتراض ہے,  کسی نے بے پردگی کو ٹارگیٹ کیا  کسی نے قتل اور سفاکی کو نشانہ بنایا  کسی نے کہا کہ سافٹ بم ہے  کسی اس ڈرامے کے ولن کردار کو موجودہ سیاسی کشاکش سے جوڑنے پر اکتفا کیا  کسی نے کہا ترکی نسل پرستی ریس ازم کا پیغام غالب ہے ۔  کسی نے کہا فکشن نگاری سے مغلوب تاریخ گردانا تو  کسی نے رمضان کے متبرک لمحات میں شیطانی کی کوشش بھی کہا ۔ بھارت میں ہوئے حالیہ احتجاج کو ارطغل ڈرامے کی تحریک کا شاخسانہ بھی کہنے سے بعض نے گریز نہ کیا,  کسی نے روحانی پہلو پر ض...